اپنی رِعایا کی خبر گِیری میں مصروف تھے اور ساتھ ہی اِس بات پر بھی غور فرمارہے تھے کہ اِیران کے مغربی صوبے ''اَہواز'' کو فتح کرنے کے لئے لشکرِ اِسلام کا سِپَہ سالار کس کو منتخب کیا جائے۔ غور وفِکر کے بعد حضرت سَیِّدُنَا سلمہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کانام آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذِہن مبارک میں آیا ۔ اِس کام کو کرنے کے لئے اِن کی صلاحیت و قابلیت کا سوچ کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خُوشی کی اِنتہا نہ رہی۔الغَرض حضرت سَیِّدُنَاسلمہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مطلوبہ ہدف کامیابی سے پورا کیا اور مسلمانوں کو عظیم فَتْح نصیب ہو ئی ۔
حضرت سَیِّدُنَا سلمہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بعدِ فتح مجاہدین میں مالِ غنیمت تقسیم فرمارہے تھے۔نہایت قیمتی اور خوبصورت موتیوں کا ہار آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں آیا ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شرکاءِ لشکر سے مشورہ کیا کہ اگر آپ سب اِس بات کی اجازت دیں تو یہ موتیوں کا عمدہ ہار امیرالمومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبطورِ تحفہ بھیج دُوں؟ سب نے بیک زَبان اقرار اور خوشی کا اِظہار کیا۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ہار کو صندوقچی میں ڈال کر اپنی قوم کے دوافراد کو روانہ کیا ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن افراد کو امیر المومنین عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف روانہ کیا اب ان کا