| مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روشن فیصلے |
شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے استفسارفرمایا: اے اعرابی!تجھے اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے تجھے الزام سے بری کرنے کے لئے اونٹنی کوقوتِ گویائی عطا فرمائی ، تُونے کیاکہاتھا۔''(جس کی وجہ سے بچ گیا)اس نے عرض کی:''میں نے یہ کہاتھا:
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ لَسْتَ بِرَبِّ اِسْتَحْدَثْنَاکَ ،وَلَامَعَکَ اِلٰہٌ اَعَانَکَ عَلٰی خَلْقِنَا،وَلَا مَعَکَ رَبٌّ فَنَشُکَّ فِی رَبُوْبِیَّتِکَ ،اَنْتَ رَبُّنَاکَمَا نَقُوْلُ وَفَوْقَ مَا یَقُوْلُ الْقَائِلُوْنَ ،اَسْأَلُکَ اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاَنْ تُبَرِّئَنِیْ بِبَرَائَتِیْ
ترجمہ :''اے ہمارے رب عزوجل!تُوایسارب نہیں کہ ہم تیرے ساتھ کوئی نیارب بنالیں،نہ ہی تیرے ساتھ کوئی ایسامعبودہے جوہمیں پيداکرنے ميں تیری مددکرے اورنہ ہی تیرے علاوہ کوئی رب ہے کہ ہم تیری ربوبیَّت میں شک کریں۔جس طرح ہم اورديگرکہنے والے کہتے ہيں تُواس سے بھی بڑی شان والاہماراپروَردْگارہے، میں تیری بارگاہ ميں التجاکرتاہوں کہ حضورنبی رحمت،شفیعِ اُمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پررحمت نازل فرمااورمجھے بری فرمادے۔''
رسولِ کریم،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ارشادفرمایا:''اے اعرابی!اس ذات کی قسم جس نے مجھے بزرگی عطافرماکرمبعوث فرمایا!میں نے فرشتوں کو گلیوں میں ایک دوسرے پرسبقت لے جاتے ہوئے دیکھا جوتمہاری گفتگوکو لکھ رہے تھے پس کثرت سے مجھ پر دوردپاک بھیجا کر۔''
(المستدرک،من کتاب آیات رسول اللہ۔۔۔۔۔۔الخ،کلام الناقۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۴۲۹۴، ج ۳ ، ص۵۲۲)
امام حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیثِ پاک کے آخرسے تمام