Brailvi Books

مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روشن فیصلے
97 - 105
کہ ابومحمد حسن بن ابراہیم اسلمی فارسی ، جعفر ابن ذر ستو یہ سے ، وہ یمان بن سعید مصیصی سے، وہ یحیٰ بن عبداللہ مصری سے ، وہ عبدالرزاق سے ، وہ معمر سے ، وہ زہری سے ، وہ سالم سے اور وہ حضرت سيدناعبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ ہم حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اِرد گردحلقہ بنائے بیٹھے تھے کہ ایک بلندآوازیمنی خانہ بدوش(يعنی بدو)سُرخ اونٹنی پرآيااوراسے مسجدکے دروازے پربٹھاکراندرداخل ہوااورحضورنبئ کریم،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرکے بیٹھ گیا۔
    جب اس نے سلام کرلياتوصحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:''یارسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!اعرابی کے پاس جو اونٹنی ہے وہ چوری کی ہے۔''آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے  دریافت فرمايا:''کیااس کاکوئی ثبوت ہے؟''عرض کی :''جی ہاں، یارسولَ اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!''آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے  حضرت سیدنا علی المرتضی کَرّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہ، الْکَرِیْم سے ارشادفرمایا:''اے علی!اگراعرابی کے خلاف کوئی گواہی ملتی ہے تو اس سے اللہ عزوجل کا حق لے لو،اگرکوئی دلیل نہیں ملتی توپھریہ معاملہ میرے سپردکردو۔''
    اعرابی کچھ دیر سرجھکائے خاموش بیٹھارہا۔رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا:''اے اعرابی!یاتوحکمِ الٰہی عزوجل کے لئے ٹھہرے رہویاپھرکوئی دلیل پیش کرو۔''تودروازے کے پیچھے سے وہی اونٹنی بول پڑی :''یارسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کوبزرگی کے ساتھ مبعوث فرمایا!اس نے مجھے نہیں چرایااورنہ ہی اس کے سوا میراکوئی مالک ہے۔''
Flag Counter