| مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روشن فیصلے |
کاغم اورفریادسُنی۔جب اُونٹ اپنی فریاد سناچکا توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے محافظ کی طرف متوجہ ہو کرفرمایا:''اس سے بازرہ، اس لئے کہ اونٹ نے تیرے خلاف گواہی دی ہے کہ تُو جھوٹاہے۔''جب محافظ واپس چلاگیاتوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اعرابی کی طرف متوجہ ہوکراستفسارفرمايا: ''جب تم میرے پاس آئے تھے تو کیا پڑھا تھا؟''اس نے عرض کی:''میرے ماں باپ آپ صلی اللہ تعالیٰ علی وآلہ وسلم پر قربان! میں نے یہ پڑھاتھا:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍحَتٰی لَاتَبْقَی صَلٰوۃٌ
یعنی:'' اے اللہ عزوجل!محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمپراتنا درودبھیج کہ کوئی درودباقی نہ رہے۔''
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ حَتٰی لَاتَبْقَی بَرَکَۃٌ
يعنی:'' اے اللہ عزوجل !محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پراتنی برکتو ں کا نزول فرما کہ کوئی برکت باقی نہ رہے۔''
اَللّٰھُمَّ وَسَلِّمْ عَلٰی مُحَمَّدٍ حَتٰی لَایَبْقَی سَلَامٌ
يعنی :''اے اللہ عزوجل ! محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پراتنی سلامتی فرما کہ کوئی سلامتی باقی نہ رہے۔''
اَللّٰھُمَّ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا حَتٰی لَاتَبْقَی رَحْمَۃٌ
یعنی :اے اللہ عزوجل ! حضور نبئ رحمت،شفیعِ اُمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر رحمتوں کا اتنا نزول فرما کہ کو ئی رحمت باقی نہ رہے ۔''(یہاں باقی نہ رہنے سے مرادرحمت برکت اور سلامتی کی کثرت ہے۔)
تورسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''اللہ عزوجل نے اس کا معاملہ مجھ پرظاہرفرمادیا، اونٹ کے بولنے نے اس (اعرابی)کوالزام سے بری کردیا اور فرشتوں نے آسمان کے کناروں کوڈھانپ لیا۔
(المعجم الکبیر،الحدیث:۴۸۸۷،ج۵،ص۱۴۱''سکن ''بدلہ''ہدأ '')
امام حاکم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ(405-321ھ)''اَلْمُسْتَدْرَکْ''میں فرماتے ہیں