Brailvi Books

مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روشن فیصلے
91 - 105
متعلق فیصلہ فرمایااوراس کا ہاتھ کاٹ دیاگیا۔
 (المصنف لعبد الرزاق،کتاب العقول،باب الذی یستعبر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۹۱۰۴،ج ۹ ، ص۴۹۶،بتغیرٍقلیلٍ)
    یہ حدیثِ پاک مرسل ہے اور اس کی سند صحیح ہے نیز یہ حدیثِ پاک حضرت سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ(64-13ھ)کی مرسل سندسے بھی مروی ہے پس سیدنا امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ کے نزدیک صحیح کے درجہ ميں پہنچ گئی۔
    امام عبدالرزاق،حضرت ابن جریج سے ، وہ حضرت یحیٰ بن سعیدرحمہم اللہ تعالیٰ سے اور وہ حضرت سيدناسعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں: ''بارگاہِ رسالت میں ایک ایسی عورت لائی گئی جو لوگو ں کے پاس آئی اور کہا کہ فلاں خاندان والے تم سے فلاں فلاں چيزاُدھار مانگتے ہيں پس انہوں نے وہ چیزیں اس عورت کو دے دیں پھرجب لوگوں نے اپنی اشياء کامطالبہ کيا تو(جن کے نام پر وہ عورت چيزيں لے گئی تھی) ان لوگوں نے انکار کرديا اور اس عورت نے بھی کسی چيزکے اُدھارلينے کا انکارکردياتوحضورنبئ غیب دان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کاہاتھ کٹوادیا۔''
 (المصنف لعبدالرزاق،کتاب العقول،باب الذی یستعیر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۹۱۰۵، ج۹،ص۴۹۶)
    امام عبدالرزاق،حضرت ابن جریج سے اوروہ حضرت ابن منکدررحمہم اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں: ''حضرت سیدنااُسیدبن حضیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی نے اس عورت کوپناہ دی جب حضرت سیدنا اُسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے توانہوں نے بیوی کوبرا بھلاکہا اورفرمایا:جب تک مَیں نبئ پاک ،صاحبِ لولاک،سَیَّاحِ اَفلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ
Flag Counter