امام عبدالرزاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (211-126ھ)''اَلْمُصَنَّف''میں فرماتے ہیں:''ابن جریج ۱؎، عکرمہ بن خالد سے اور وہ حضرت ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث سے روایت کرتے ہیں کہ''ایک عورت کسی عورت کے پاس آئی اورجھوٹ بولتے ہوئے کہنے لگی کہ فلانی عورت تجھ سے زیوراُدھارمانگتی ہے۔ اس عورت نے اسے عاریۃً زیور دے دیا۔اس نے کچھ عرصہ انتظارکیالیکن اپنا زیورنہ پایا(پھرجب اس عورت سے زیور کا مطالبہ کیاتو) وہ کہنے لگی کہ میں نے تجھ سے زیوراُدھارلیاہی نہیں ۔وہ دوسری عورت کے پاس گئی اوراس سے زیورکے متعلق پوچھا تواس نے بھی کسی چيزکے اُدھارلینے کاانکارکیاپس وہ عورت رسول ِپاک،صاحبِ لَولاک،سَیَّاحِ اَفلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ ِ اقدس میں (شکایت لے کر) حاضرہوئی توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے( زیور لینے والی)عورت کو بلایاتو وہ کہنے لگی : ''اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث فرمایا!میں نے اس سے کوئی چیزاُدھارنہیں لی۔''