Brailvi Books

مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روشن فیصلے
92 - 105
وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضرنہ ہوجاؤں اپنے کپڑے نہیں اُتاروں گا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہِ نبوت میں حاضرہوئے اوریہ قصہ سنایاتوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے  ارشاد فرمایا: ''تمہاری بیوی نے اس عورت پررحم کیا،اللہ عزوجل تمہاری بیوی پر رحم فرمائے۔''
 (المرجع السابق،الحدیث:۱۹۱۰۶،''رحمتہا''بدلہ''رحمۃ'')
    سیدناامام احمدبن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (241-164ھ)اپنی'' مُسْنَد''میں اسود بن عامرسے ،وہ شریک سے ، وہ عطاء بن سائب سے ، وہ ابو یحیٰ اَعْرَج سے اور وہ حضرت سيدناابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ''انہوں نے فرمایا: دو آدمی رسولِ اَکرم،نورِمجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اَقدس میں اپنافیصلہ کروانے کے لئے حاضرہوئے ۔ان میں سے ایک کوقسم اٹھانے کاحکم ہوا۔چنانچہ اس نے یوں قسم اٹھائی کہ'' اللہ عزوجل کی قسم جس کے سواکوئی معبودنہیں میرے پاس اس شخص کی کوئی چیز نہیں ۔ '' اسی وقت حضرت سیدناجبرائیلِ امین علیہ السلام نے بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکرعرض کی ''يہ شخص جھوٹاہے اوراُس شخص کا اِس کے ذمّے حق ہے۔'' تو رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے  اسے حکم دیا کہ وہ اس شخص کو اس کا حق ادا کرے ۔
 (المسند للامام احمدبن حنبل،مسندعبداللہ ابن العباس،الحدیث:۲۶۹۵،ج۱،ص ۶۳۵)
Flag Counter