سیدناامام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ''عفان، حماد بن سلمہ سے ، وہ عبدالملک ابو جعفر سے ، وہ ابو نضرہ سے اور وہ حضرت سیدنا سعد بن اطول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کابھائی ترکے ميں تین سو درہم اور اہل وعیال چھوڑکر دنيا سے چل بسا،پس مَیں نے وہ رقم اس کے گھروالوں پر خرچ کرنے کاارادہ کیاتونور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''تیرابھائی قرض میں گرفتارتھا لہذا اس کی طرف سے قرض اداکرو۔''(قرض اداکرنے کے بعد)انہوں نے عرض کی :''یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!میں نے اس کی طرف سے سارا قرض ادا کردیاہے سوائے ان دو دیناروں کے جن کا دعویٰ ایک عورت کرتی ہے حالانکہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔''توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''اسے دے دو ،وہ سچ کہتی ہے۔''