Brailvi Books

مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روشن فیصلے
88 - 105
تین سودراہم کافیصلہ
    سیدناامام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ''عفان، حماد بن سلمہ سے ، وہ عبدالملک ابو جعفر سے ، وہ ابو نضرہ سے اور وہ حضرت سیدنا سعد بن اطول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کابھائی ترکے ميں تین سو درہم اور اہل وعیال چھوڑکر دنيا سے چل بسا،پس مَیں نے وہ رقم اس کے گھروالوں پر خرچ کرنے کاارادہ کیاتونور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''تیرابھائی قرض میں گرفتارتھا لہذا اس کی طرف سے قرض اداکرو۔''(قرض اداکرنے کے بعد)انہوں نے عرض کی :''یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!میں نے اس کی طرف سے سارا قرض ادا کردیاہے سوائے ان دو دیناروں کے جن کا دعویٰ ایک عورت کرتی ہے حالانکہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔''توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''اسے دے دو ،وہ سچ کہتی ہے۔''
 (سنن ابن ماجہ،کتاب الصدقات،باب اداء دین۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۴۳۳،ج۳،ص ۱۵۵، ''محبوس''بدلہ'' محتبس'')
    علامہ حافظ زین الدین عراقی علیہ رحمۃ اللہ الباقی (806-725ھ) کتاب ''قُرَّۃُ الْعَیْنِ بِالْمَسَرَّۃِبِوَفَاءِ الدَّیْنِ'' میں فرماتے ہیں کہ'' یہ حدیث حسن ہے۔''
    یہ حدیثِ پاک باطنی فیصلہ کے باب سے ہے ۔اس قسم کے معاملات میں ظاہری طورپر شریعت کا حکم یہ ہے کہ ایسی صورت میں گواہی کاقیام اور قَسم کاپایاجانا واجب ہوتاہے کیونکہ یہ میّت کے خلاف دعویٰ ہے خصوصاًجب ورثاء نابالغ ہوں لیکن باطن اور حقیقت پر مطلع ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قرض کی ادائیگی کا فیصلہ صادرفرمایا۔
Flag Counter