Brailvi Books

مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روشن فیصلے
87 - 105
شرائط پر توقف کئے بغیراسے نافذ کرنے کا حکم دے دیاجائے۔
    بہرحال حقیقت کے مطابق فیصلہ کرنے کااس کے علاوہ اورکوئی مفہوم نہیں۔ کیونکہ حضرت سیدنا خضرعلیہ السلام نے بھی اس لڑکے کووحئ الٰہی عزوجل نازل ہونے کے بعدقتل کیاتھا اور انہیں مطلع کردیاگیا تھا کہ اس کے کافر ہونے پر مہر ثبت کردی گئی ہے اور پھرآپ علیہ السلام کوحکم دیاگياکہ شریعت مطہرہ میں معتبردوباتوں کے پائے جانے سے پہلے ہی اسے قتل کردواوروہ بلوغت اوربڑے ہوکرکفرکااظہارہے اسی لئے تو حضرت سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا:
وَمَا فَعَلْتُہٗ عَنْ اَمْرِیۡ ؕ
ترجمہ ـ  کنزالایمان:اور یہ کچھ میں نے اپنے سے نہ کیا۔(پ۱۶،الکہف:۸۲)
    علامہ ابوالحیان علیہ رحمۃ اللہ المنّان۱؎(745-654ھ) اپنی تفسیر ۲؎ میں فرماتے ہیں: ''جمہور کا قول یہ ہے کہ حضرت سیدناخضر علیہ السلام نبی ہیں اور آپ علیہ السلام کا علم باطنی اُمور کی معرفت تھا جو ان کی طر ف وحی کی جاتی تھی اور حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیٰ نبیناو علیہ الصلوٰۃو السلام کا علم ظاہرکے مطابق فیصلہ کرناتھا۔''
 (تفسیرالبحرالمحیط،پارہ۱۵،سورۃ الکہف،تحت آلایۃ:۶۵،ج۶،۱۳۹)
۱ ؎ المفسر، المحدث ، الادیب اثیر الدین ابو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان الغرنا طی ، الجیانی الاندلسی ،آپ علیہ الرحمۃکی پیدائش شوال المکرم کے آخر میں ہوئی آپ کا وصال ماہ صفر المظفرمیں قاہرہ میں ہوا اور مقبر ۂ صوفیہ میں دفن کئے گئے، آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں: البحر المحیط فی تفسیر القرآن ، النہر ، تحفۃ الاریب ، الادراک للسان الاتراک۔     (معجم المؤلفین،ج۳،ص۷۸۴،الاعلام للزرکلی،ج۷،ص۱۵۲)

۲ ؎ البحر المحیط ، فی التفسیر للشیخ اثیر الدین ابی حیان محمد بن یوسف الاندلسی ۔    (کشف الظنون،ج۱،ص۲۲۶)
Flag Counter