| مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روشن فیصلے |
اسے عفوودرگزرکی ترغیب دیتے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے: ''جب بھی رسولِ کریم،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں قصاص کامطالبہ کیاگیاتو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عفوودرگزرسے کام لینے کا حکم فرمایا۔''
(سنن ابن ماجہ،کتاب الدیات،باب العفوفی القصاص،الحدیث:۲۶۹۲،ج۳،ص۹ ۲۹)
علامہ بُلقینی علیہ رحمۃ اللہ القوی(824-763ھ)نے ''اَلرَّوْضَۃ''کے حاشیہ میں علامہ ابن منذر (318-242ھ)اورامام طبرانی (360-260ھ)رحمہمااللہ تعالیٰ کے حوالے سے نقل کیا کہ ان دونوں نے استدلال کیا ہے کہ'' رسولِ اَکرم،نورِمجسّم،شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عِلم کے ساتھ فیصلہ فرماتے تھے۔''دونوں اس حدیثِ پاک سے استدلال کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''اے خاتون ! اپنے شوہرکے مال سے دستورکے مطابق اتنالے لیاکرجتناتجھے اورتیرے بچوں کو کفایت کرے۔''
(صحیح البخاری،کتاب الاحکام،باب القضاء علی الغائب،الحدیث:۷۱۸۰،ج ۴ ،ص۴۶۶)
اس استدلال کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے زوجیت (یعنی اس شخص کی بیوی ہونے)پردلیل کا مطالبہ کئے بغیراس کے لئے فیصلہ فرمادیا تھا۔
اعتراض:اگریہ کہا جائے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے وارث کے دعویٰ اور مطالبہ کے بغیرنیزتمہاری ذکرکردہ باتوں کے وقوع کے بغیراس لئے قتل کردیاتھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وحی آگئی تھی۔
جواب:تو میں جواب میں کہوں گا کہ ہاں!بات ایسے ہی ہے اور یہی ہمارا مدعا ہے۔ حقیقت کے مطابق فیصلہ صادر فرمانے کامفہوم یہی ہے کہ اس معاملہ کی حقیقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کووحی کے ذریعے بتادی جائے اور پھرشرعی طور پر معتبر