| مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روشن فیصلے |
نہیں کئے گئے۔'' تومعاذاللہ(يعنی اللہ عزوجل کی پناہ)کوئی مسلمان یہ کیسے کہہ سکتاہے کہ یہ باقی تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے حق میں نقص اور عیب کاباعث ہے۔
بہت سی نصوص اورنقول ایسی آئی ہیں جن کے مطابق سرکارِ دوعالم،نورِمجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں ایسے اُمورحَسنہ جمع کر دیئے گئے جوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی نبی میں جمع نہیں کئے گئے۔ان میں سے قتل عمد(يعنی جان بوجھ کرقتل کرنے)میں قصاص (يعنی مقتول کے بدلے قاتل کوقتل کرنا)اوردِیت(يعنی قتل کے بدلے مال لینے)میں اختیارکا ہوناشامل ہے حالانکہ حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام کی شریعت میں صرف قصاص تھا اور حضرت سیدنا عیسیٰ روح اللہ علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃوالسلام کی شریعت میں صرف دیت تھی۔
سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب و سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا دونوں اُمور(يعنی ظاہروباطن)کے مطابق فیصلہ فرمانے کاعام اختيارآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے عموم(یعنی عام ہونے)کی مثال ہے کیونکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بالاجماع تمام جن وانس کی طرف مبعوث فرمائے گئے ہیں جبکہ ہر نبی کو خاص اس کی اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا جا تا تھا توکیا کوئی مسلمان اس طرح کہہ سکتا ہے کہ یہ باقی تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے حق میں نقص اورعیب ہے؟
اسی طرح آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تمام روئے زمین پر نمازاداکرنا مباح قراردیاگیاجبکہ باقی انبیاء کرام علیہم السلام کی عبادت کے لئے مخصوص جگہوں کے علاوہ باقی زمین پرنمازکی ادائیگی جائز قرارنہیں دی گئی توکیاکوئی مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ عمومیت(یعنی تمام زمین پرنمازجائزہونا)جس کے ساتھ ہمارے نبئ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مختص کئے گئے باقی تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے حق میں نقص وعیب کا باعث ہے ؟معاذاللہ عزوجل