وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیِّیْنَ عَلٰی بَعْضٍ
ترجمہ ـ کنزالایمان: اور بے شک ہم نے نبیوں میں ایک کو ایک پر بڑائی دی ۔(پ 15،بنی اسرائیل :55)
ہرمسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ ہمارے نبئ مکرم،نورِ مجسَّم،شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مطلق طورپر تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل ہیں اوریہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کے حق میں بھی نقص اور عیب کا باعث نہیں۔
اس اعتراض کا جواب دینے کی ضرورت تونہ تھی لیکن میں نے اس خوف سے اس کاجواب دے دیاکہ کہیں ایسانہ ہوکہ کوئی جاہل ایسی بات سن کر يہ وہم کرے کہ يہ ديگر انبياء کرام علیہم السلام ميں عيب اور نقص کا باعث ہے اوراس کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ان خصائص کے انکارپربرانگیختہ نہ کر دے جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کوباقی تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر فضیلت دی گئی ہے۔
نیزوہ اس بات کاانکار نہ کردے جو نبئ پاک، صاحبِ لَولاک،سَیَّاح اَفلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خودبيان فرمائی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے خصائل حمیدہ عطا کئے گئے جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی نبی کوبھی عطا نہیں کئے گئے اور یہ کہ ہرہر خصلت(يعنی اچھی صفت)میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ديگر انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت عطا کی گئی۔لہذا ميں نے اس کا جواب دیاہے تاکہ معاذ اللہ کہیں وہ کافراور زندیق (يعنی بے دين)نہ ہوجائے ۔