Brailvi Books

مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روشن فیصلے
100 - 105
وسلم!وہ شخص مجھے چوری کرنے کے الزام سے بری ہے۔''
    حضورنبئ پاک،صاحبِ لولاک،سَیَّاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''کون ہے جواس شخص کولے آئے؟'' حاضرين میں سے ستر(70)صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اسے لانے میں ایک دوسرے سے جلدی کی ،چنانچہ وہ اسے بارگاہِ رسالت علی صاحبھاالصلوٰۃ والسلام میں لے آئے۔
    رحمتِ عالم،نورِمجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا:''جب تم یہاں سے لوٹ رہے تھے توکیاکہہ رہے تھے؟''تواس نے جوکچھ کہاتھابتادیا۔''نبئ اکرم، نورِمجسَّم، شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''یہی وجہ ہے کہ میں نے فرشتوں کودیکھا جومدینہ منورہ کی گلیوں میں تیزی سے آرہے تھے ،قریب تھا کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان حائل ہوجاتے پھر حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے  اس سے ارشادفرمایا:'' تم ضرور پُل صراط پر میرے پاس آؤ گے اورتمہاراچہرہ چودھویں رات کے چاندسے زیادہ چمکدار ہو گا ۔ ''
سوال:یہ ہے کہ سرکارِ مدینہ ،راحتِ قلب و سینہ،باعثِ نزولِ سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاظاہراورباطن کاایک ساتھ فیصلہ دینے کے ساتھ مختص ہونا اور باقی تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کاان دونوں میں سے ایک کے ساتھ فیصلہ کرنا ان انبیاء کرام علیہم السلام کے حق میں نقص اورعیب کا باعث ہے۔
جواب:یہ توبہت ہی عجیب بات ہے اس لئے کہ صحیح احادیثِ مبارکہ میں سرکارِ دوعالم،نورِ مجسَّم، شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خودارشاد فرماياہے کہ مجھے ایسے خصائل حميدہ(یعنی پسندیدہ اوصاف اورخوبیاں)عطاکئے گئے جومجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا
Flag Counter