| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
کرنے اور برائی سے رکنے کی طاقت دینے والاوہ ہی ہے۔ اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کیا جاؤں ، پھسل جاؤں یا پھسلا یا جاؤں یا کسی پر زیادتی کروں یا مجھ پر زیادتی ہو یا میں جہالت کا ارتکا ب کروں یا میرے خلاف جہالت برتی جائے۔
(۵) جب سواری پر سوار ہو تو پڑھے:بِسْمِ اللہِ وَ بِاللہِ وَ اللہُ اَکْبَرُ ،تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ ،حَسْبِیَ اللہُ
ترجمہ: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام سے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مدد سے، اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بڑا ہے، میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ کیا، میرے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کافی ہے۔''پھریہ پڑھے:
سُبْحٰنَ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیۡنَ ﴿ۙ13﴾وَ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿14﴾
ترجمۂ کنزالایمان: پاکی ہے اسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کر دیا اور یہ ہمارے بوتے(قابو) کی نہ تھی اور بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔(پ25 ،الزخرف:13۔14)
(۶)پڑاؤ ڈالنا۔سنت یہ ہے کہ جب تک دن گرم نہ ہوجائے کسی جگہ نہ اُترے اور سفر رات کی ابتداء میں کیاجائے۔
نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''تم پر رات میں سفر کرنا لازم ہے کیونکہ رات کو زمین لپیٹ دی جاتی ہے جو دن کو نہیں لپیٹی جاتی۔'' (۷)اکیلا چلنے سے بچے کہ غفلت میں ہلاک نہ کر دیا جائے ۔
(۸)جب کسی بلند مقام کی طرف جائے تو تین مرتبہ تکبیر کہنے کے بعد یہ پڑھے:اَللّٰھُمَّ لَکَ الشَّرَفُ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ ،وَ لَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَالٍ ترجمہ:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! تیرے لئے ہر شرف سے بڑھ کر شرف ہے اور ہر حال میں تیرے لئے ہی حمد ہے۔''دوسرا ادب:
میقات سے احرام باندھنے سے لے کر کردخولِ مکۂ مکرمہ تک کے آداب پانچ ہیں۔
(۱)غسل کرنا: غسل کرتے وقت احرام کی نیت کرے۔ ناخن تراشنے اورمونچھیں پست کرنے کے ساتھ اپنے غسل کو مکمل کرے۔
(۲)سلے ہوئے کپڑوں سے دور رہے جیسا کہ گزر چکا ہے اور خوشبو لگائے اور ایسی خوشبولگانے میں حرج نہیں جس