Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
100 - 415
کانشان اور خوشبو باقی رہے جیسا کہ منقول ہے۔۱؎

    (۳)اپنی حرکت یا اپنی سواری کے اٹھنے کی حرکت کے وقت احرام کی نیت کرے، احرام کے صحیح ہونے کے لئے صرف نیت ہی کافی ہے لیکن سنت یہ ہے کہ وہ نیت کے ساتھ تلبیہ کے الفاظ بھی ملائے:
لَبَّیْک ؕ  اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک ؕ  لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْک ؕ  اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ؕ   لَاشَرِیْکَ لَکَ
ترجمہ: میں حاضر ہوں، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں،تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک حمد و نعمت اور بادشاہی تیرے لئے ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ ''

     اگر وہ اس میں اضافہ کرے اور کہے
''لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہ، بِیَدَیْکَ وَالرَّغْبَۃُ اِلَیْکَ لَبَّیْکَ بِحِجَّۃٍحَقّاً تَعَبُّدًاوَّرِقًّا،اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّسَلِّمْ
ترجمہ:میں حاضر ہوں اور بار بار حاضر ہوں اور تمام بھلائی تیرے قبضہ میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے،میں تیری بندگی و غلامی کرتے ہوئے حج کے لئے حق کے ساتھ حاضر ہوں، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! حضرت سیِّدُنا محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور آپ کی آل پر رحمت نازل فرما۔

    (۴)جب اس کا احرام منعقد ہو جائے تو مستحب ہے کہ یہ پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَاَعِنِّیْ عَلٰی فَرْضِہٖ وَ تَقَبَّلْہُ مِنِّیْ
ترجمہ :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں حج کاا رادہ کرتا ہوں اسے میرے لئے آسان کردے اور اس کے فرض کی ادائیگی پر میری مدد فرما اور اسے مجھ سے قبول فرما۔''(۵)احرام کے دوران بار بار تلبیہ کہنا مستحب ہے۔
تیسرا ادب:
    یہ دخول مکہ مکرمہ سے طواف تک کے آداب کے بارے میں ہے اور یہ چھ ہيں۔

    (۱)مکہ مکرمہ میں داخلہ کے لئے مقام ذی طویٰ سے غسل کرے اور حج میں نو غسل مسنون ہیں پہلااحرام کے لئے پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لئے،پھر طواف قدوم کے لئے پھر وقوف عرفات کے لئے پھر مزدلفہ کے لئے پھر تین جمروں کو کنکریاں مارنے کے لئے تین اورجمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کے لئے غسل نہیں پھر طواف و داع کے لئے اور امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے قول کے مطابق طواف زیارت اور طواف وداع کے لئے غسل نہیں، اس طرح یہ سات رہ جاتے ہیں۔۲؎
۱؎:احناف کے نزدیک:''بدن اور کپڑوں پر خوشبو لگائیں کہ سنت ہے ، اگر خوشبو ایسی ہے کہ اُس کا جِرم باقی رہے گا جیسے مشک وغیرہ تو کپڑوں میں نہ لگائیں۔'' (بہارِشریعت،احرام کا بیان،حصہ،۶،ص۲۴) 

۲؎:احناف کے نزدیک:'' عرفہ کے دن اور احرام باندھتے وقت غسل کرنا سنت ہے اور وقوف ِ عرفات و وقوف ِ مزدلفہ و حاضریئ حرم و حاضریئ سرکا رِ اعظم و طواف و دخولِ منیٰ اور جمروں پر کنکریاں مارنے کے لئے اور عرفہ کی رات غسل کرنا مستحب ہے ۔''(تنویر الأبصاروالدرالمختار،کتاب الطہارۃ،ج۱،ص۳۳۹۔۳۴۲)
Flag Counter