ترجمہ:میں حاضر ہوں اور بار بار حاضر ہوں اور تمام بھلائی تیرے قبضہ میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے،میں تیری بندگی و غلامی کرتے ہوئے حج کے لئے حق کے ساتھ حاضر ہوں، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! حضرت سیِّدُنا محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور آپ کی آل پر رحمت نازل فرما۔
(۴)جب اس کا احرام منعقد ہو جائے تو مستحب ہے کہ یہ پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَاَعِنِّیْ عَلٰی فَرْضِہٖ وَ تَقَبَّلْہُ مِنِّیْ
ترجمہ :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں حج کاا رادہ کرتا ہوں اسے میرے لئے آسان کردے اور اس کے فرض کی ادائیگی پر میری مدد فرما اور اسے مجھ سے قبول فرما۔''(۵)احرام کے دوران بار بار تلبیہ کہنا مستحب ہے۔
یہ دخول مکہ مکرمہ سے طواف تک کے آداب کے بارے میں ہے اور یہ چھ ہيں۔
(۱)مکہ مکرمہ میں داخلہ کے لئے مقام ذی طویٰ سے غسل کرے اور حج میں نو غسل مسنون ہیں پہلااحرام کے لئے پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لئے،پھر طواف قدوم کے لئے پھر وقوف عرفات کے لئے پھر مزدلفہ کے لئے پھر تین جمروں کو کنکریاں مارنے کے لئے تین اورجمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کے لئے غسل نہیں پھر طواف و داع کے لئے اور امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے قول کے مطابق طواف زیارت اور طواف وداع کے لئے غسل نہیں، اس طرح یہ سات رہ جاتے ہیں۔۲؎
۱؎:احناف کے نزدیک:''بدن اور کپڑوں پر خوشبو لگائیں کہ سنت ہے ، اگر خوشبو ایسی ہے کہ اُس کا جِرم باقی رہے گا جیسے مشک وغیرہ تو کپڑوں میں نہ لگائیں۔'' (بہارِشریعت،احرام کا بیان،حصہ،۶،ص۲۴)
۲؎:احناف کے نزدیک:'' عرفہ کے دن اور احرام باندھتے وقت غسل کرنا سنت ہے اور وقوف ِ عرفات و وقوف ِ مزدلفہ و حاضریئ حرم و حاضریئ سرکا رِ اعظم و طواف و دخولِ منیٰ اور جمروں پر کنکریاں مارنے کے لئے اور عرفہ کی رات غسل کرنا مستحب ہے ۔''(تنویر الأبصاروالدرالمختار،کتاب الطہارۃ،ج۱،ص۳۳۹۔۳۴۲)