| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
محرم ہو جائے (یعنی احرام باندھ لے)اس کے لئے حج کے اعمال کافی ہیں، اور عمرہ حج کے تحت آجائے گا جس طرح وضو غسل کے تحت ادا ہوجاتا ہے۔ البتہ جب وہ طواف کرے اور وقوف عرفات سے پہلے سعی کرے تو اس کی سعی دونوں عبادتوں کی طرف سے شمار ہوگی لیکن طواف شمار نہیں ہوگا کیونکہ حج کے فرض طواف کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ وقوف ِعرفات کے بعد ہو اور حجِ قران کرنے والے پر بکری کی قربانی لازم ہے۔ البتہ اگر وہ مکۂ مکرمہ کا رہنے والا ہو تو کچھ بھی لازم نہیں کیونکہ اس نے اپنے میقات کو نہیں چھوڑااس لئے کہ اس کا میقات مکۂ مکرمہ ہے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔حجِ تمتُّع: اس کاطریقہ یہ ہے کہ وہ میقات سے عمرہ کے احرام کے ساتھ داخل ہو اور(عمرہ کرنے کے بعد)مکہ میں احرام اتار دے اور حج کے وقت تک ممنوعاتِ احرام سے نفع اٹھائے پھر حج کا احرام باندھے ۔۱؎: احناف کے نزدیک:حجِ تمتع کی دس شرائط ہیں۔ان کی تفصیل جاننے کے لئے بہارشریعت حصہ ۶ کامطالعہ فرمائیں۔ ۲؎:احناف کے نزدیک:''قرا ن اور تمتع والے کو قربانی کرناواجب ہے۔''(بہارشریعت، حج کے واجبات،حصہ ۶،ص۱۲)
مُتمَتِّع کے لئے شرائط:۱؎
(۱)وہ مسجدِ حرام کے پاس رہنے والا نہ ہو اس سے مراد وہ شخص ہے جو اتنی مسافت پر ہو جس میں نماز کی قصر ہوتی ہے۔
(۲)عمرہ کو حج سے مقدم کرے۔(۳)عمرہ حج کے مہینوں میں ہو۔
(۴)(اس دوران) حج کا احرام باندھنے کے لئے میقاتِ حج یا اس کے برابر مسافت کی طرف نہ آئے ۔
(۵)اس کا حج اور عمرہ ایک ہی شخص کی طرف سے ہوں۔
جب یہ اوصاف پائے جائیں تو انسان متمتع ہو جاتا ہے اور اس پرقربانی لازم ہو جاتی ہے۔۲؎ اگرجانور نہ پائے تو قربانی کے دن سے پہلے حج کے دنوں میں تین روزے الگ الگ یا مسلسل رکھے اور سات روزے اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر رکھے۔ یہ دس روزے ہیں چاہے مسلسل رکھے یا متفرق طور پررکھے۔