چھ واجبات کے رہ جانے سے دم لازم آتا ہے۔
(۱)میقات سے احرام باندھنا، جو شخص یہ چھوڑ دے اس پر دم میں بکری لازم ہو جاتی ہے (۲)رمئ جمرات اور اس کے چھوڑنے پر ایک قول کے مطابق دم لازم ہے (۳) سورج غروب ہونے تک عرفات میں ٹھہرنا (۴)مزدلفہ میں رات گزارنا (۵) منیٰ میں رات گزارنا (۶)طواف وداع کرنا ۔اگریہ آخری چار رہ جائیں تو ایک قول کے مطابق دم لازم ہے ، جبکہ دوسرے قول کے مطابق دم لازم نہیں بلکہ مستحب ہے۔حج کی اقسام
حج اور عمرہ کی ادائیگی کے تین طریقے:
(۱)۔۔۔۔۔۔حجِ افراد: اوریہ افضل ہے۔۲؎ اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے صرف حج کرے، جب حج سے فارغ ہو جائے تو حرم سے حِل (حرم سے باہر)کی طرف چلا جائے اور احرام باندھ کر عمرہ کرے اور عمرہ کے احرام کے لئے افضل حِل جِعِرَّانہ ہے۔۳؎ پھر تنعیم اور پھرحدیبیہ ہے حجِ افراد کرنے والے پر دم (قربانی) لازم نہیں بلکہ نفل ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔حجِ قِران: اس کا طریقہ یہ ہے کہ حج اور عمرہ کو جمع کرے اور کہے میں حج اور عمرہ کے ساتھ حاضر ہوں اور۱؎:دَم یعنی ایک بکرا(اس میں نَر ،مادہ،دُنبہ،بھیڑ،نیزگائے یااونٹ کاساتواں حصہ سب شامل ہیں)۔(رفیق الحرمین،ص۲۲۸) نوٹ:دَم مزید کن صورتوں میں لازم آتاہے اس کے بارے میں جاننے کے لئے بہارشریعت، حصہ۶کامطالعہ فرمائیں۔ ۲؎:ہمارے نزدیک:'' سب سے افضل حج قران پھر تمتع پھر افراد ہے۔'' (ردالمحتار، کتاب الحج، باب القران، ج۳، ص۶۳۱) ۳؎: امیر اہلسنت ،امیرِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیۃنقل فرماتے ہيں:''جِعِرَّانہ مکۂ مکرمہ سے تقریبًا چھبیس(۲۶) کلومیٹر دور طائف کے راستے پر واقع ہے۔ یہاں سے بھی دورانِ قیامِ مکّہ شریف عمرہ کا احرام باندھاجاتا ہے۔ اس مقام کو عوام میں''بڑا عمرہ''کہاجاتا ہے۔غزوۂ حُنین سے واپسی پر ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہاں سے عمرہ کااحرام زیبِ تن فرمایاتھا۔ہوسکے توہر حاجی کو چاہے کہ اس سنت کو اداکرے اور یہ نہایت ہی پُرسوز مقام ہے۔ حضرت سیِّدُنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی ''اخبارالاخیار ''میں نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا شیخ عبدالوہاب متقی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے زائرینِ حرم کو تاکید فرمائی ہے کہ وہ جِعرانہ سے عمرہ کااحرام باندھیں کہ یہ ایسا متبرک مقام ہے کہ میں نے یہاں ایک رات کے اندر سو(100)بارمدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کاخواب میں دیدار کیا ہے۔'' (اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَانِہٖ) (رفیق الحرمین،ص۴۱)