حج کے صحیح ہونے کی شرائط وقت کا پایا جانا اور مسلمان ہونا ہے، اوربچے کا حج صحیح ہے اگروہ خود سمجھدار ہے تواحرام باندھے اور سمجھدار نہیں ہے تو اس کا ولی اس کی طرف سے احرام باندھ لے اور اس سے تمام افعال حج کروائے جو وہ خود کرسکتا ہے۔
حج کے احرام کا وقت شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے نو دن اور قربانی کے دن طلوع فجر تک ہے جوان اوقات کے علاوہ حج کا احرام باندھے گا تو وہ عمرہ ہوگا اور عمر ے کا وقت پورا سال ہے۔
حج فرض ہونے کی شرائط:۱؎
فرض حج کے وقوع(یعنی لازم ہونے)کے لئے پانچ شرائط ہیں:(۱) آزاد ہونا(۲)مسلمان ہونا (۳) بالغ ہونا(۴) عاقل ہونااور(۵) وقت کا پایا جانا۔
اگر بچے یا غلام نے احرام باندھا لیکن عرفات یا مزدلفہ میں غلام کو آزاد کر دیا گیا یا بچہ بالغ ہو گیااور وہ قربانی کے دن کی طلوع ِفجر سے پہلے عرفات لوٹ گیا تو ان دونوں کی طرف سے حج ادا ہو جائے گا، کیونکہ حج وقوفِ عرفات کانام ہے اور ان دونوں پر کوتاہی کا دم لازم نہ ہوگااور عمرہ کے لئے بھی یہی شرائط ہیں البتہ اس میں وقت شرط نہیں۔
آزاد بالغ آدمی کی طرف سے نفلی حج کرنے کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ فرض حج ادا کر چکا ہو، کیونکہ فرض حج مقدَّم ہے پھراس حج کی قضاء ہے جسے حالتِ وقوف میں فاسد کیا ہو، پھر نذر کا حج، پھر دوسرے کی نیابت میں حج کرنا اور اس کے بعد نفلی ہے۔ یہ ترتیب ضروری ہے اور حج اسی ترتیب سے واقع ہوگا اگرچہ اس کے خلاف نیت کرے ۔