Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
92 - 415
حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس خوف سے حجّاج کرام کو حج کرنے کے بعد واپس بھیج دیتے، کہ لوگوں کو اس سے اُکتاہٹ پیدا نہ ہوجائے اور فرماتے اے اہل یمن! یمن کو جاؤ ،اے شام والو! شام کی طرف جاؤ، اے اہل عراق! عراق کی طرف جاؤ۔اسی طرح کہا گیاہے کہ وہاں سے جدا ہونے کی وجہ سے دوبارہ آنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان ہے:
وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیۡتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اور(یادکرو)جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا۔(پ1، البقرہ: 125)

    ایک قول یہ ہے کہ اس خوف سے(وہاں ٹھہرنا ناپسندیدہ ہے)کہ کہیں گناہ اور خطاؤں کا ارتکاب نہ ہو جائے اوریہ ممنوع ہے ۔ جو مکہ کے حقوق پورے کر سکے اس کے لئے وہاں ٹھہرنے کی فضیلت کے لئے یہی بات کافی ہے کہ جب نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دوبارہ مکہ تشریف لائے تو کعبۃ اللہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:''بلاشبہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہترین زمین ہے اور مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے تمام شہروں سے زیادہ محبوب ہے اور اگر مجھے یہاں سے جانے پر مجبور نہ کیا جاتا تو میں یہاں سے نہ جاتا۔''
(سنن ابن ماجۃ ،ابواب المناسک ،باب فضل مکۃ ،الحدیث۳۱۰۸،ص۲۶۶۵)
مدینۂ منورہ کی فضیلت وعظمت:
    مکہ مکرمہ کے بعد مدینہ منورہ سے افضل کوئی زمین نہیں۔ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ فضیلت نشان ہے:''میرا اس مسجد میں ایک نماز پڑھنا مسجد ِحرام کے علاوہ دیگر مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے۔''
 (صحیح البخاری ،کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ،باب فضل الصلاۃ فی مسجد۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۱۹۰،ص۹۲)
    مدینۂ منورہ کے بعد بیتُ المقدَّس کی فضیلت ہے۔ نبئ کریم ،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عظمت نشان ہے: ''اس میں ایک نماز پانچ سو نمازوں کے برابر ہے۔'
 (شعب الایمان للبیھقی ،باب فی المناسک ،فضل الحج والعمرۃ ،الحدیث۴۱۴۰،ج۳،ص۴۸۵، بتغیرٍ)
    حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے۔ کہ رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''مسجد ِمدینہ ( یعنی مسجد نبوی)میں ایک نماز دس ہزار نمازوں کے برابر ہے،مسجد اقصی میں ایک نماز ایک ہزار نمازوں اور مسجد حرام میں ایک نماز ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔''
Flag Counter