Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
91 - 415
آنسو بہائے جاتے ہیں۔'' توحضرت سیِّدُنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! یہ نفع بھی دیتا ہے اور نقصان بھی۔''انہوں نے پوچھا:'' وہ کس طرح؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اولادِ آدم سے وعدہ لیا، تو ان کے متعلق ایک تحریر لکھ کر اس پتھر کو کھلادی ،پس یہ مؤمن کے حق میں وفائے عہد کی اور کافر کے خلاف اس کے انکار کی گواہی دے گا ۔''
 (المستدرک،کتاب المناسک ،باب الحجر الأسود یمین اﷲ التی یصافح بھاخلقہ ،الحدیث۱۷۲۵،ج۲،ص۱۰۹۔۱۱۰،مفہوماً)
    کہا گیا ہے کہ:'' لوگ اس کو بوسہ دیتے وقت جوکلمات پڑھتے ہیں ان کا یہی مطلب ہے :
''اَللّٰھُمَّ اِیْمَانًابِکَ وَ تَصْدِیْقًابِکِتَابِکَ وَ وَفَاءً بِعَہْدِ کَ
ترجمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!میں تجھ پر ایمان لاتے ہوئے، تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے اور تیرے وعدے کو پورا کرتا ہوں۔

    حضرت سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی سے مروی ہے ۔کہ مکّہ مکرمہ میں ایک دن کا روزہ ایک لاکھ روزوں کے برابراور ایک درہم صدقہ کرنا ایک لاکھ درہم صدقہ کرنے کے برابرہے اور اس طرح ہر نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہے۔''

    حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ بشارت نشان ہے: ''سب سے پہلے میری قبرشَق ہوگی، پھر میں جنت البقیع والوں کے پاس جاؤں گا، تو وہ میرے ساتھ اکٹھے ہوں گے، پھر اہل ِمکہ کے پاس جاؤں گا اور حرمینِ شریفین کے درمیان ان سے آملوں گا۔''
 (جامع الترمذی ،ابواب المناقب ،باب أنا أول من تنشق ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۳۶۹۲،ص۲۰۳۲)
    منقول ہے کہ:'' جب تک کوئی ابدال اس گھر کا طواف نہ کرلے اس دن کا سورج غروب نہیں ہوتا اور رات سے فجر طلوع نہیں ہوتی جب تک کوئی اوتاد اس کا طواف نہ کرلے اور جب یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا تو یہی اس کے زمین سے اٹھ جانے کا سبب ہوگا۔ لوگ صبح کریں گے تو کعبہ شریف اٹھالیاگیا ہوگا، اس کا کوئی نشان دکھائی نہ دے گا اور یہ بات اس وقت ہوگی جب سات سال تک کعبۃاللہ کا حج نہ ہوگا، پھر قرآن کو مصاحف سے اٹھالیا جائے گا۔ لوگ صبح اٹھیں گے تو کاغذ سفید چمکتے ہوں گے، ان پر حروف نہ ہوں گے، پھر قرآن کو دلوں سے نکال دیا جائے گا، تو اس کا ایک لفظ بھی یاد نہیں رہے گا ،پھر لوگ اشعار،گانوں اور دورِ جاہلیت کی خبروں کی طرف رجوع کریں گے، پھر دجال نکلے گا اور حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام اتریں گے اور اسے قتل کر ديں گے ،قیامت اس وقت اتنی قریب ہوگی ،جیسے عورت کے ہاں بچہ پیدا ہونے کی توقع کا وقت ہوتا ہے۔''
مکۂ مکرمہ میں قیام کی فضیلت وکراہیت:
    بعض علماء نے مکّہ مکرمہ سے اُکتاجانے کے خوف سے وہاں سکونت اختیار کرنا نا پسند سمجھا ہے، اس لئے امیر المؤمنین
Flag Counter