ترجمہ :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!حج کرنے والوں کو بخش دے اور جس کے لئے حاجی بخشش مانگے اسے بھی بخش دے۔''
(المستدرک ،کتاب المناسک ،باب وفد اﷲ ثلاثۃ الغازی والحاج والمعتمر،الحدیث۱۶۵۴،ج۲،ص۸۴)
روایت ہے کہ حضرت علی بن موفق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف سے کئی حج کئے ،وہ فرماتے ہیں کہ:'' میں نے سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خواب میں زیارت کی توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے استفسار فرمایا :''اے ابن موفق!کیاتم نے میری طرف سے حج کئے؟'' میں نے عرض کی:'' جی ہاں۔'' فرمایا:'' تم نے میری طرف سے تلبیہ کہا؟'' میں نے عرض کی:'' جی ہاں۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:'' میں قیامت کے دن تمہیں ان کا بدلہ دوں گا۔ اور میں مؤقف (یعنی محشر)میں تیرا ہاتھ پکڑ کر تجھے جنت میں داخل کروں گا جبکہ لوگ ابھی تک حساب کی سختی میں ہوں گے۔''
'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس گھر سے وعدہ فرمایاہے کہ ہر سال چھ لاکھ آدمی اس کا حج کریں گے اگر کم ہو جائیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ فرشتوں کے ذریعے انہیں پورا کریگا اور بروزِقیامت کعبہ کو دلہن کی طرح مؤقف کی طرف لے جایا جائے گا اور جن جن لوگوں نے اس کا حج کیاہوگا وہ اس کے پردوں سے لٹکے ہوں گے اور اس کے گرد چکرلگا رہے ہوں گے، حتی کہ کعبہ جنت میں داخل ہو جائے گا ،تو وہ لوگ بھی اس کے ساتھ جنت میں چلے جائیں گے۔''
ایک حدیث مبارک میں ہے:'' بے شک'' حجر اسود'' جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یاقوت ہے اور وہ قیامت کے دن اس طرح اٹھایا جائے گا، کہ اس کی دو آنکھیں اور زبان ہوگی ،جس کے ذریعے وہ اس شخص کی گواہی دے گا،جس نے اسے حق و صداقت کے ساتھ بوسہ دیا ہو گا۔''
(جامع الترمذی ،ابواب الحج ،باب ماجاء فی الحجر الاسود ،الحدیث۹۶۱،ص۱۷۴۳) (صحیح ابن خزیمۃ ،کتاب المناسک ،با ب ذکر الدلیل علی ان الحجر۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۲۷۳۴،ج۴،ص۲۲۰)
حضورنبئ رحمت، شفیعِ اُمّت،قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم حجرِ اسود کو بہت زیادہ بوسے دیا کرتے تھے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بوسہ دیتے ہوئے فرمایا:'' بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نقصان دے سکتا ہے نہ نفع۔''اگر میں نے رسول اللہ عَزَّوَجَل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔'' پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رو پڑے ، جب پیچھے متوجہ ہوئے، تو حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا توحضرت سیِّدُنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسا نہ کہیں ۔''حضرت سیِّدُنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے ابوالحسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ !یہاں