اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیۡکُمْ نِعْمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسْلَامَ دِیۡنًا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔(پ6 ،المآئدہ:3)
سرکارِ والا تَبار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:''جو شخص (طاقت ہونے کے باوجود) حج نہ کرے اور مر جائے تو چاہے وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر۔''(جامع الترمذی ،کتاب الحج ،باب ماجاء من التغلیظ فی ترک الحج ،الحدیث۸۱۲،ص۱۷۲۸)
حج اورمساجد کی فضیلت:
اللہ عَزَّوَجل اِرشاد فرماتاہے:
وَ اَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا
ترجمۂ کنزالایمان: اور لوگوں میں حج کی عام ندا کر دے وہ تیرے پاس حاضر ہوں گے پیادہ۔(پ17، الحج:27)
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ خوشبودارہے : ''شیطان یومِ عرفہ میں جس قدر ذلیل ،راندہ ہوا اورغضب ناک ہوتا ہے اتنا کبھی نہیں دیکھا گیا۔''(الموطأللامام مالک ،کتاب الحج ،باب جامع الحج ،الحدیث۹۸۲،ج۱،ص۳۸۶)
اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے:''جو شخص اپنے گھر سے حج یا عمرہ کرنے کے لئے نکلے اور فوت ہو جائے ،تو اسے قیامت تک حج و عمرہ کرنے والے کا اجر دیاجاتا رہے گا۔''
(شعب الایمان للبیھقی ،باب فی المناسک ،فضل الحج والعمرۃ ،الحدیث۴۱۰۰،ج۳،ص۴۷۴)
ایک بزرگ کا قول ہے کہ جب عرفہ کا د ن یومِ جمعہ کو آئے تو تمام اہلِ عرفات کی بخشش ہو جاتی ہے اور یہ دنیا وی دنوں میں سے افضل ہے اسی دن نبئ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حجۃُ الوداع ادا فرمایا اور آپ حالتِ وقوف میں تھے ،جب یہ آیت نازل ہوئی:
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ
ترجمۂ کنزالایمان: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا۔(پ6، المآئدۃ:3)
اہل ِکتاب نے کہا اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کوعید کا دن بنا لیتے تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ آیت نبئ کریم،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پردو عیدوں( یعنی عرفہ اور جمعۃ