Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
87 - 415
نفلی روزوں کا بیان
    جان لو! فضیلت والے دِنوں میں روزوں کا مستحب ہونا مؤکَّد ہے اور فضیلت والے دنوں میں سے بعض سال میں ایک بار، بعض ہرمہینے اور بعض ہرہفتے میں پائے جاتے ہیں ۔

    سال میں رمضان المبارک کے بعد عَرَفہ(یعنی نوذو الحجہ) کا دن، ۱؎ دسویں محرم کا دن، ذوالحجہ کے پہلے دس دن،محرم الحرام کے پہلے دس دن اور عزت والے مہینے (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب) روزوں کے لئے عمدہ دن ہیں اور سرکار ِدوعالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم شعبان المعظم میں بکثرت روزے رکھتے ،حتی کہ گمان ہونے لگتا کہ یہ رمضان ہے۔''
 (صحیح البخاری ،کتاب الصوم ،باب صوم شعبان ،الحدیث۱۹۶۹،ص۱۵۴،بتغیرٍ)
    حدیث ِ مبارکہ میں ہے:''رمضان المبارک کے بعد افضل روزے محرم کے ہیں۔''
 (صحیح مسلم ،کتاب الصیام ،باب فضل صوم المحرم ،الحدیث۲۷۵۶،ص۸۶۶)
    سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عظمت نشان ہے''ماہ محرم کا ایک روزہ دوسرے مہینوں کے تیس روزوں سے افضل ہے اور رمضان المبارک کا ایک روزہ محرّم الحرام کے تیس روزوں سے افضل ہے۔''
 (المعجم الصغیرللطبرانی،الحدیث۹۶۰،ج۲،ص۷۱،بتغیرٍ قلیلٍ)
    اور جو شخص عزت والے مہینوں ميں جمعرات ،جمعہ اور ہفتہ کا روزہ رکھے، اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے سات سو سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہے۔'' فضیلت والے مہینے ذوالحجۃ الحرام، محرم الحرام،رجب المرجب اورشعبان ا لمعظم ہیں اورعزت والے ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب ہیں ان میں ایک(رجب کا)مہینہ الگ ہے اور تین مسلسل ہیں۔''

    روزوں کے وہ دن جو مہینے میں تکرار سے آتے ہیں (یعنی ہر مہینے آتے ہیں)وہ مہینے کا پہلا ، درمیانی یعنی ایام بیض اور آخری دن ہیں اور ایام ِبیض تیرہ،چودہ اور پندرہ تاریخ ہے۔ اورہر ہفتے میں آنے والے روزوں کے دن پیر ،جمعرات اور جمعہ کے ہیں۔

    صومُ الدھر(یعنی عمر بھر روزے رکھنا) تمام دنوں کو شامل ہے اور ہمیشہ روزہ رکھنے کے مکروہ ہونے میں اختلاف ہے۔
۱؎:امیرِ اہلسنت، امیرِ دعوتِ اسلامی حضرت مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ'' فیضانِ سنت،صفحہ۱۴۰۵ ''پر نقل فرماتے ہیں:''حج کرنے والے پر جو عَرَفات میں ہے، اسے عرفہ(یعنی۹ذوالحجۃ الحرام)کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے کہ حضرت سیدنا ابن خزیمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی(یعنی راویت فرماتے ہیں) کہ حضور پر نور، شافع یوم النشورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے عرفہ کے دن(یعنی۹ذوالحجۃ الحرامکے روز حاجی کو) عَرَفات میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔''     (صحیح ابن خزیمہ،ج۳، ص۲۹۲، الحدیث:۲۱۰۱)
Flag Counter