Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
86 - 415
روزے کے درجات کا بیان:ـ
    جان لو!روزے کے تین درجے ہیں:(۱)عوام(یعنی عام لوگوں)کاروزہ(۲)خواص(یعنی خاص لوگوں)کاروزہ (۳) خاص الخاص کا روزہ۔

    عام لوگوں کا روزہ پیٹ اور شرمگاہ کو خواہش کی تکمیل سے روکنا ہے۔

    خاص لوگوں کا روزہ کان، آنکھ،زبان، ہاتھ، پاؤں اور تمام اعضاء کو گناہوں سے روکناہے۔

    خا ص الخا ص کا روزہ دل کو تمام بُرےخیالات اور دنیا وی افکار بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا ہر چیز سے بالکل خالی کر دینا ہے۔

    اور روز ہ ہر اس چیز سے ٹوٹ جاتا ہے جو روزے کے منافی ہو۔

     نُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذی وقارہے: ''پانچ چیزیں روزہ دار کے روزے کو توڑ دیتی ہیں: ''جھوٹ، غیبت ،چغلی، جھوٹی قسم اور شہوت کی ساتھ کسی کو دیکھنا۔''
 (فردوس الاخبار للدیلمی ،باب الخاء ،الحدیث۲۸۰۱،ج۱،ص۳۷۷)
    پس حالتِ روزہ میں اعضاء کو گناہوں سے بچانا خاص لوگوں کے لئے زیادہ ضروری ہے۔چاہے کہ حلال کھانا بھی پیٹ بھر کر نہ کھائے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیٹ سے بُرا کوئی برتن نہیں جوبھرا ہوا ہو، اور اس کا دل خوف اور امید کے درمیان مضطرب رہناچاہئے ، کہ کیا اس کا روزہ قبول بھی ہوا یا اس کی قسمت میں بھوک،پیاس اور تھکاوٹ ہی تھی؟

    مروی ہے کہ'' بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک و پیاس کے سِوا کچھ نہیں ملتا۔''
 (سنن ابن ماجۃ، ابواب الصیام ،باب ماجاء فی الغیبۃ والرفث للصائم ،الحدیث۱۶۹۰،ص۲۵۷۸،مفھوماً)
    کیونکہ روزے کا مقصد خواہش سے ُرکنا ہے اور یہ چیز کھانے پینے سے رُکنے پر ہی محدود نہیں ہو سکتی ،کہ وہ کسی کو شہوت کی نظر سے دیکھ لے، غیبت کرے ، چغلی کھائے یا جھُوٹ بولے یہ تمام چیزیں روزے کو توڑدیتی ہیں۔
بقیہ حاشیہ۔۔۔۔۔۔تواب سے ساٹھ( ۶۰) روزے رکھے، پہلے کے روزے محسوب (یعنی شمار) نہ ہوں گے اگرچہ اُنسٹھ( ۵۹) رکھ چکا تھا۔ اگرچہ بیماری وغیرہ کسی عذر کے سبب چُھوٹا ہو۔ مگر عورت کوحیض آجائے تو حیض کی وجہ سے جتنے ناغے ہوئے یہ ناغے نہیں شمار کئے جائیں گے یعنی پہلے کے روزے اور حیض کے بعد والے دونوں مِل کر ساٹھ (۶۰) ہو جانے سے کفارہ ادا ہوجائے گا۔''
(ردالمحتار،کتاب الصوم،باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في الکفارۃ، ج۳، ص۴۴۷۔الفتاوی الرضویۃ (مخرَّجہ)،ج۱۰، ص۵۹۵ وغیرہما)
Flag Counter