Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
85 - 415
اور اگر شک کی رات نیت کی کہ اگر صبح رمضان المبارک کا دن ہوا تو روزہ رکھوں گا تو نیت صحیح نہ ہوگی۔۱؎

    روزہ سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی بھی چیز کو پیٹ میں داخل ہونے سے روکے، پس کھانے، پینے،ناک میں کسی چیز کے چڑھانے اور حقنہ لینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور رَگ کٹوانے،پچھنہ لگوانے ،سرمہ ڈالنے اور کان یا عضو تنا سل کے سوراخ میں سلائی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ البتہ! اگر عضو تناسل کے سوراخ میں ایسی چیز ڈالی جو مثانے تک پہنچ گئی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔۲؎

    اور جو چیزیں ارادے کے بغیر داخل ہو جائیں، جیسے راستے کا گرد وغباریا مکھی پیٹ میں چلی جائے ، کلی کرتے یا ناک میں پانی ڈالتے ہوئے پانی پیٹ تک پہنچ جائے،جب تک مبالغہ نہ کرے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔۳؎ اگرغروبِ آفتاب سے قبل یہ گمان کرتے ہوئے کھائے کہ رات ہے پھرپتہ چلے کہ دن ہے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اگر بھول کر کھائے پئے تو نہیں ٹوٹے گااگر اپنے حلق یا سینے سے بلغم کھینچ کر نِگل لے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ ابتلائے عام(یعنی اس میں عوام وخواص کے مبتلا ہونے) کی وجہ سے رخصت ہے۔

    کفَّارہ صرف جماع(یعنی ہم بستری) سے واجب ہوتا ہے۔مَنی نکالنے اورکھانے پینے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا۔۴؎ روزے کا کفّارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ اگر غلام نہ ہو تو مسلسل دو مہینے کے روزے رکھناہے ۔اگر اس سے بھی عاجز ہو تو ساٹھ مسکینوں کو ایک ایک مد (یعنی ایک کلو)کھانا کھلانا ہے۔۵؎
۱؎:احناف کے نزدیک :''یوم الشّک کے روزہ میں یہ پکا ارادہ کر لے کہ یہ روزۂ نفل ہے تردُّد نہ رہے، یوں نہ ہو کہ اگر رمضان ہے تو یہ روزہ رمضان کا ہے، ورنہ نفل کا یا یوں کہ اگر آج رمضان کا دن ہے تو یہ روزہ رمضان کا ہے، ورنہ کسی اورواجب کا کہ یہ دونوں صورتیں مکروہ ہیں۔ پھر اگر اس دن کا رمضان ہونا ثابت ہو جائے تو فرض رمضان ادا ہوگا۔ ورنہ دونوں صورتوں میں نفل ہے اور گنہگار بہرحال ہوا اور یوں بھی نیّت نہ کرے کہ یہ دن رمضان کا ہے تو روزہ ہے، ورنہ روزہ نہیں کہ اس صورت میں تو نہ نِیَّت ہی ہوئی، نہ روزہ ہوا اور اگرنفل کا پورا ارادہ ہے مگر کبھی کبھی دل میں یہ خیال گزر جاتا ہے کہ شاید آج رمضان کا دن ہو تو اس میں حرج نہیں۔'' 

(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصوم، الباب الأول،ج۱، ص۲۰۰،والدرالمختاروردالمحتار،کتاب الصوم ،مبحث في صوم یوم الشک ،ج۳، ص۴۰۳)

۲؎:احناف کے نزدیک:''مرد نے پیشاب کے سوراخ میں پانی یا تیل ڈالا تو روزہ نہ گیا اگرچہ مثانہ تک پہنچ گیا اور عورت نے شرمگاہ میں ٹپکایا تو جاتا رہا۔ '' 

(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۴) 

۳؎:احناف کے نزدیک:''کلی کر رہا تھا بلا قصد پانی حلق سے اتر گیا یا ناک میں پانی چڑھایا اور دماغ کو چڑھ گیا روزہ جاتا رہا، مگر جب کہ روزہ ہونا بھول گیا ہو تو نہ ٹوٹے گا اگرچہ قصداً ہو۔ یونہی کسی نے روزہ دار کی طرف کوئی چیز پھینکی وہ اُس کے حلق میں چلی گئی روزہ جاتا رہا۔''

(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱،ص۲۰۲) 

۴؎:احناف کے نزدیک:''قصداًکھانے پینے اور جماع سے روزہ ٹوٹ جاتاہے اور کفّارہ لازم ہوتا ہے ۔'' (ملخصاً از بہارشریعت،حصۃ۵،ص۱۲۶)

۵؎:روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ ممکن ہو تو ایک رقبہ یعنی باندی یا غلام آزاد کرے اور یہ نہ کر سکے مثلاً اس کے پاس نہ لونڈی غلام ہے، نہ اتنا مال کہ خریدے یا مال تو ہے مگر رقبہ(یعنی غلام) میسر نہیں جیسے آج کل یہاں ہندوستان میں۔ تو پے درپے ساٹھ روزے رکھے، یہ بھی نہ کرسکے تو ساٹھ (۶۰)مساکین کو بھر بھر پیٹ دونوں وقت کھانا کھلائے اور روزے کی صورت میں اگر درمیان میں ایک دن کا بھی چھوٹ گیا۔۔۔۔۔۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر
(سنن ابی داؤد ،کتاب الجھاد ،باب فی الدرجۃ ،الحدیث۲۵۷۱،ص۱۴۱۳۔موطأ للامام مالک، کتاب الاستئذان ،باب ما یؤمر بہ من العمل فی السفر ،الحدیث۱۸۸۵،ج۲،ص۴۵۸)
Flag Counter