Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
84 - 415
باب6:             روزے کے اسرارکا بیا ن
    سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب وسینہ ،سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم فرماتے ہیں۔کہ اللہ عَزَّوَجَلّ ارشادفرماتا ہے:''ہر نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک ہے سوائے روزے کے، بے شک وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔''
 (موطأ للامام مالک ،کتاب الصیام ،باب جامع الصیام ،الحدیث۷۰۴،ج۱،ص۲۸۵)
    رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! روزے دار کے منہ کی بُواللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک کستوری سے زیادہ خوشبودار ہے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے کہ :''یہ شخص اپنی خواہش اور کھانے پینے کو میرے لئے چھوڑتا ہے ،پس روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔''
 (موطأ للامام مالک ،کتاب الصیام ،باب جامع الصیام ،الحدیث۷۰۴،ج۱،ص۲۸۵)
    حضور نبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:''بے شک شیطان انسان میں خون کی طرح دوڑتا ہے ،پس بھوک کے ذریعے اس کے راستوں کو تنگ کرو۔''
 (سنن ابی داؤد ،کتاب السنۃ ،باب فی ذراری المشرکین ،الحدیث۴۷۱۹،ص۱۵۷۰، بدون: فضیقوا مجاریہ بالجوع)
    اسی لئے نبئ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشادفرمایا:'' جنت کا دروازہ ہمیشہ کھٹکھٹاتی رہو۔'' انہوں نے عرض کیا:'' کس چیز کے ساتھ؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:'' بھوک کے ساتھ۔''

    نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے:''اگر انسانوں کے دلوں پر شیطانوں کی آمدورفت نہ ہوتی تو وہ آسمانوں کی بادشاہی دیکھ لیتے۔''
 (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرۃ ،الحدیث۸۶۴۸،ج۳،ص۲۶۹تا۲۷۰، بتغیرٍ قلیلٍ)
    روزہ خواہشات کے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے.(یہ خواہشات کو توڑنے کے باب میں آئے گا ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ)

    جان لو! رمضانُ المبارک کے چاند کا ثبوت ایک عادل شخص کی گواہی سے ثابت ہو جاتا ہے اور شوال المکرّم کا چاند دو عادل آدمیوں کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے، اگرچہ قاضی اس کا فیصلہ کرے یا نہ کرے ،ہر شخص اپنے غلبۂ ظن کے مطابق عمل کریگا اور اس پر رات کو نیت کرنا لازم ہے۔ ۱؎ اور اس پر واجب ہے کہ وہ رمضان المبارک کے روزے کے فرض ہونے کی نیت کرے
۱؎:احناف کے نزدیک: ''ادائے روزۂ رمضان اور نذرِ معین اور نفل کے روزوں کے لئے نیّت کا وقت غروبِ آفتاب سے ضحوۂ کبریٰ تک ہے۔ اس وقت میں جب نیّت کر لے یہ روزے ہو جائیں گے۔ لہٰذا آفتاب ڈوبنے سے پہلے نیّت کی کہ کل روزہ رکھوں گا۔ پھر بے ہوش ہو گیا اورضحوۂ کبریٰ کے بعد ہوش آیا تو یہ روزہ نہ ہوا اور آفتاب ڈوبنے کے بعد نیّت کی تھی تو ہو گیا۔''    (الدرالمختاروردالمحتار،کتاب الصوم ،ج۳،ص۳۹۳)
Flag Counter