نبئ کریم ،ر ء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کیا گیا: ''کون سا صدقہ افضل ہے ؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا :'' تم اس حال میں صدقہ کرو کہ تندرست ہو، مال کی حرص رکھنے والے نہ ہو، غناء کی امید رکھنے والے اور فاقے سے ڈرنے والے ہو اورتاخیر نہ کر ویہاں تک کہ موت آ جائے تم کہو فلاں کے لئے اتنا ہے اور فلاں کے لئے اتنا ہے۔''
(صحیح البخاری ،کتاب الزکاۃ ،باب فضل صدقۃ الشحیح الصحیح ،الحدیث۱۴۱۹،ص۱۱۱)
صدقہ کو چھپا کر یا علانیہ دینے میں کوئی حرج نہیں حضرت سیِّدُنا ابراہیم خواص اور حضرت سیِّدُناجنید رضی اللہ عنہماکے خیال میں صدقے کا مال لینا زکوٰۃ کا مال لینے سے افضل ہے کیونکہ زکوٰۃ لینے ميں فقراء کی مزاحمت ہے اور کیونکہ زکوٰۃ کے لئے بہت سی شرائط ہیں اور اکثر زکوٰۃ لینے والے میں وہ شرائط مکمل طور پر نہیں پائی جاتیں ۔بعض بزرگوں کا قول ہے کہ زکوٰۃ میں سے لینا بہتر ہے کیونکہ یہ واجب کی ادائیگی پرمدد کرنا ہے اور اس میں نفس کی سرکشی کو توڑنا اور اسے رسوا کرنا پایا جاتا ہے اس صورت میں بھی معاملہ قریب قریب ہی ہے، اس بات کو سمجھ لو فائدہ ہوگا۔ وَاللہُ اَعْلَمْ۔