اس کی آٹھ اقسام ہیں:(۱) فقیر : وہ شخص ہے جس کے پاس نہ مال ہو نہ وہ کمانے پر قادر ہو۔(۲)مسکین: وہ شخص ہے جس کی آمدنی سے خرچ پورا نہ ہوتا ہو۔(۳) عامل: یہ وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ کا مال جمع کرتے ہیں۔(۴)مؤلفۃُ القلوب: یہ وہ معزز لوگ ہیں جواسلام قبول کرتے ہیں اور قوم ان کی اطاعت کرتی ہے اور انہیں دینے کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ ان کی قوم کو اسلام قبول کرنے میں رغبت ہو۔
(۵) مکاتب: اس کا حصّہ اسے اور اس کے آقا کو دینا جائز ہے اور آقا اپنے مکاتب غلام کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔(مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس نے اپنے آقا سے مال معین کے بدلہ میں آزادی طے کی ہو)
(۶) غارم: اس شخص کو کہتے ہیں جوکسی جائز کام کے لئے قرض لیتا ہے اور یہ فقیر ہے جو اتنے مال کا مالک نہیں ہوتا کہ قرض ادا کر سکے پس اگر اس نے کسی گناہ کے کام کے لئے قرض لیاتوجب تک توبہ نہ کرے اسے زکوٰۃ نہ دی جائے اور اگر قرض کسی امیر نے لیا لیکن کسی مصلحت کے لئے یا کسی فتنے کو ختم کرنے کے لئے لیا تو اسے بھی زکوٰۃ دینا جائز ہے۔
(۷)مجاہد: وہ ہے جس کا نام و ظیفہ حاصل کرنے والوں کے رجسٹر میں نہ ہو اگرچہ وہ مالدار ہولیکن اسے اُس کا حصہ دیا جائے گا۔
(۸)مسافر: جس کے پاس سفر میں اپنے گھر تک پہنچنے کیلئے زادِراہ نہ ہو اور اسے اس صورت میں زکوٰۃ دنیا جائز ہے جب سفر کسی جائز مقصد کے لئے ہو۔
فقیر،مسکین،مسافراورنمازی کے کہنے پر کہ وہ ایسا ہے اعتمادکیا جائے گا ،غازی اورمجاہد اگر اپنا وعدہ پورا نہ کریں تو ان سے مال واپس لے لیا جائے اور دیگر اقسام میں گواہوں کا ہونا ضروری ہے ۔واللہ اعلم