Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
81 - 415
آفتاب سے شروع ہو جاتا ہے۔ ۱؎ اور جلدی دینے کا وقت رمضان المبارک کا پورا مہینہ ہے۔ جو شخص قدرت ہونے کے باوجود زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرے تو وہ گناہگار ہوگا اگرچہ مال ہلاک ہو جائے لیکن زکوٰۃاس سے ساقط نہ ہوگی۔۲ ؎ اور قدرت کا مطلب یہ ہے کہ اُسے مستحقِ زکوٰۃ مل جائے اور اگر مستحق نہ ملنے کی وجہ سے تاخیر کرے اور مال ہلاک ہو جائے تو زکوٰۃ ساقط ہو جائے گی۔

    زکوٰۃ ادا کرنے والے کو اس شہر میں مصارف ِزکوٰۃ کی تعداد کے مطابق مال تقسیم کرنا چاہے اور مصارف کی تمام اقسام کا احاطہ کرنا چاہئے۔ ان آٹھ مستحقین میں سے دوا قسام اکثر شہروں میں نہیں پائی جاتیں وہ مؤلفۃ القلوب۳؎ اور زکوٰۃ کے لئے کام کرنے والے ہیں۔ چاراقسام تمام شہروں میں پائی جاتی ہیں: فقراء، مساکین، مقروض اور مسافر۔ اوردو اقسام بعض شہروں میں پائی جاتی ہیں، بعض میں نہیں وہ جہاد کرنے والے اور مکاتب ہیں۔۴؎ 

    جتنی اقسام کے لوگ اپنے شہر میں مل جائیں ان کی تعداد کے مطابق ان میں مال تقسیم کر دے پھر ہر قسم کو تین قسموں میں تقسیم کرے یا زیادہ حصے کر دے ایک قسم کے تحت سب کو برابر برابر دینا واجب نہیں اور جب نیک آدمی کو زکوٰۃ دینے پر قادر ہو تو بہتر ہے کہ اسے دے اور وہ متقی، عالم اور مستور الحال (یعنی جس کے حالات لوگوں سے پوشیدہ ہوں) اور (جسے زکوٰۃ دے) وہ اس کے رشتہ داروں میں سے ہو اور جب اس میں یہ باتیں پائی جائیں تواب زکوٰۃ کی قبولیت کے زیادہ قریب ہے ۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔
زکوٰۃ وصول کرنے والوں کا بیان
    زکوٰۃکا مستحق وہ ہے جو آزاد ہو، مسلمان ہو اور وہ ہاشمی و مطلبی نہ ہو اور بچے اور پاگل کوزکوٰۃدینا جائز ہے بشرطیکہ ان کا ولی قبضہ کرے۔
۱؎: احناف کے نزدیک:عیدکے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے۔ لہٰذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے مر گیا یاغنی تھا فقیر ہو گیا یا صبح طلوع ہونے کے بعد کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یافقیر تھا غنی ہو گیا تو واجب نہ ہوا ۔اور اگر صبح طلوع ہونے کے بعد مرا یا صبح طلوع ہونے سے پہلے کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہو گیا تو واجب ہے۔''    (الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲)

۲؎:احناف کے نزدیک:اگر کل مال ہلاک ہو گیا تو کل کی زکوٰۃ ساقط ہو گئی اور کچھ ہلاک ہوا تو جتنا ہلاک ہوا اس کی ساقط اور جو باقی ہے اس کی واجب اگرچہ وہ بقدرِ نصاب نہ ہو۔،ہلاک کے یہ معنی ہیں کہ بغیر اس کے فعل کے ضائع ہو گیا مثلاً چوری ہو گئی یا کسی کو قرض و عاریت دی اُس نے انکار کر دیا اور گواہ نہیں یا وہ مر گیا اور کچھ ترکہ میں نہ چھوڑا اور اگر اپنے فعل سے ہلاک کیا مثلاً صَرَف کر ڈالا یا پھینک دیا یا غنی کو ہبہ کر دیا تو زکوٰۃ بدستور واجب الادا ہے ایک پیسہ بھی ساقط نہ ہو گا اگرچہ بالکل نادار ہو۔''    (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ،الباب الأول،ج۱،ص۱۷۱)

۳؎:''مؤلفۃ القلوب سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں اسلام کی طرف مائل کرنے کے لئے زکوٰۃ دی جائے۔''(لغۃ الفقہاء ،ص۴۹۷)

۴؎:''مکاتب وہ غلام ہے جس کو مالک نے کہا ہو اتنی رقم دے دے تو تو آزاد ہے۔''(لغۃ الفقہاء ،ص۴۵۵)
Flag Counter