Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
80 - 415
سونے چاند ی کی زکوٰۃ:
    جب مکہ مکرمہ کے وزن کے مطابق دو سو درہموں پر سال گزرجائے اور خالص چاندی ہو تو اس میں پانچ درہم ہوں گے، جبکہ مکہ مکرمہ کے وزن کے مطابق بیس دینار کا خالص سونا ہو تو اس پر چالیسواں حصہ ہے اور جو زیادہ ہو اس میں اسی حساب سے زکوٰۃ ہوگی اگرچہ ایک دانق ہو(یعنی درہم کے چھٹے حصّہ کا سکہ)سونے کی ڈلی اور ممنوعہ زیور (جیسے سونے چاندی کے برتن وغیرہ) میں زکوٰۃ واجب ہے۔سونے چاندی کے علاوہ معدنیات میں زکوٰۃ واجب نہیں۔ سونے چاندی کو نکالنے، حاصل کرنے، بھٹی سے گزارنے اور خالص کر لینے کے بعد چالیسواں حصہ لیا جائے گا۔ دو ا قوال میں سے زیادہ صحیح قول یہی ہے سال گزرنے کے بارے میں دوقول ہیں۔ ایک قول کے مطابق پانچواں حصّہ لازم ہوگا۔ اس صورت میں سال گزرنے کا اعتبار نہ ہوگا ۔اور کیا نصاب کا اعتبار کیا جائے گا؟ اس کے متعلق دو قول ہیں(یعنی بعض کے نزدیک سال گزرنے کااعتبار کیا جائے گا جبکہ بعض کے نزدیک اس کا کوئی اعتبار نہیں)۔
صدقۂ فطر:۱؎
    صدقۂ فطرسرکارِ دو عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زبانِ مبارک سے ہر اس مسلمان پر واجب ہے جس کے پاس اپنے اور اپنے زیرِکفالت لوگوں کے لئے عید الفطر اور اس کے رات کے کھانے سے ایک صاع زائدان چیزوں میں سے ہو جن کو بطورِ غذا استعمال کیا جاتا ہے، اور اس کا اندازہ رسولِ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صاع سے ہوگا یہ دوسیر اور ایک سیر کا تہائی حصہ ہے وہ اسے اپنے کھانے کی جنس سے یا اس سے افضل سے نکالے گا اور اسے اس طرح تقسیم کریگا جس طرح زکوٰۃ کا مال تقسیم کیا جاتاہے۔ نبئ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''ان لوگوں کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرو جو تمہاری کفالت میں ہیں۔''
 (السنن الکبری للبیھقی،کتاب الزکاۃ ،باب اخراج زکاۃ الفطر ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۷۶۸۵،ج۴،ص۲۷۲،مفہوماً)
زکوٰۃ کی ادائیگی اوراس کی شرائط :
    زکوٰۃ میں پہلی شرط نیت ہے یعنی دل سے فرض زکوٰۃکی نیت کرے ۔مجنون اور بچے کی طرف سے ولی کی نیت قائم مقام ہوجاتی ہے جو شخص مال زکوٰۃ نہیں دیتا تو بادشاہ کی نیت اس کے قائم مقام ہو جاتی ہے۔

    صدقۂ فطر کو عید کے دن سے مؤخر نہیں کرناچاہے اور اس کے وجوب کا وقت رمضان المبارک کے آخری دن غروب
۱؎ :احناف کے نزدیک :''صدقۂ فطر ہر مسلمان آزاد مالکِ نصاب پر جس کی نصاب حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہو واجب ہے اس میں عاقل بالغ اور مال نامی ہونے کی شرط نہیں۔''     (الدرالمختار،کتاب الزکاۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۶۲۔۳۶۵)
Flag Counter