تیس سے کم گائیں ہوں تو ان پر زکوٰۃ نہیں جب تیس ہو جائیں تو ایک تبیع ہوگا یعنی وہ بچہ جو دوسرے سال میں داخل ہوچکا ہو، پھر چالیس گائے میں ایک مُسنَّہ ہے یعنی جو تیسرے سال میں دا خل ہوچکی ہو، پھر ساٹھ میں دو تبیع ہوں گے اور حساب ٹھہر جائے گا پھر چالیس پر ایک مُسَّنہ اورہر تیس پر ایک تبیع ہوگا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ۔
بکریوں کی زکوٰۃ:
بکریاں جب تک چالیس نہ ہو ان پر زکوٰۃ فرض نہیں، جب چالیس ہو جائیں تو ایک بکری یا بکری کا دو سالہ بچہ ہوگا، پھر ایک سو بیس تک یہی حکم ہے ۔ ایک سو اکیس میں دو بکریاں لازم ہوں گی، پھر دو سو ایک میں تین بکریاں ہوں گی اور چار سو میں چار بکریاں ہوں گی، پھر حساب رُک جائے گا اور اب ہر سو میں ایک بکری ہوگی۔
دو آدمی شریک ہوں تو ان پر بھی اس طرح زکوٰۃ ہوگی جس طرح ایک مالک نصاب کے مال میں زکوٰۃ ہوتی ہے اور شرکت میں شرط یہ ہے کہ وہ تمام احوال میں اکٹھے ہوں گے، پڑوس کی شرکت حصوں کی شرکت کی طرح ہے ۔۱؎:احناف کے نزدیک:''پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ واجب نہیں اور جب پانچ يا پانچ سے زیادہ ہوں، مگر پچیس سے کم ہوں تو ہر پانچ میں ایک بکری واجب ہے یعنی پانچ ہوں تو ایک بکری، دس ہوں تو دو۔ وَعَلٰی ہٰذَا الْقِیَاسِ۔اوراگرپچیس اونٹ ہوں تو ایک بنت مخاض یعنی اونٹ کا بچہ مادہ جو ایک سال کا ہو چکا، دوسری برس میں ہو۔پینتیس تک یہی حکم ہے یعنی وہی بنت مخاض دیں گے۔ چھتیس سے پینتالیس تک ميں ایک بنت لبون یعنی اونٹ کا مادہ بچہ جو دو سال کا ہو چکا اور تیسری برس میں ہے۔ چھیالیس سے ساٹھ تک میں حِقّہ یعنی اونٹنی جو تین برس کی ہو چکی چوتھی میں ہو۔ اکسٹھ سے پچھترتک جذعہ یعنی چار سال کی اونٹنی جو پانچویں میں ہو۔چھہترسے نوے تک میں دو بنت لبون۔ اکانوے سے ايک سو بیس تک میں دو حِقّہ۔ اس کے بعد ايک سو پینتالیس تک دو حِقّہ اور ہر پانچ میں ایک بکری۔ مثلاً ايک سو پچیس میں دو حِقّہ ایک بکری اورایک سو تیس میں دو حِقّہ دو بکریاں۔ وعلٰی ہذا القیاس۔'' (بہارشریعت،حصہ۵،ص۲۹) ۲؎:احناف کے نزدیک:''گائے بھینس کی زکوٰۃ میں اختیار ہے کہ نر لیا جائے یا مادہ مگر افضل یہ ہے کہ گائیں زیادہ ہوں تو بچھیا اور نر زیادہ ہوں تو بچھڑا۔'' (الفتاوٰی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ، الباب الثانی في صدقۃ السوائم، الفصل الثالث،ج۱،ص۱۷۸) ۳؎:احناف کے نزدیک:'' اس میں نصاب بھی شرط نہیں۔ ایک صاع بھی پیداوار ہو تو عشر(یعنی دسواں حصہ)واجب ہے۔'' (الدرالمختاروردالمحتار،کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۳)
زمین کی فصل کی زکوٰۃ:
ہر وہ اُگنے والی چیز جسے بطورِ غذاء استعمال کرتے ہیں جب بیس من ہو تو اس میں عشر واجب ہے۔۳؎