| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
جہاں تک مال کا تعلق ہے تو اس کی پانچ شرائط ہیں:(۱)جانور ہو (۲)چرنے والا ہو (۳) سال تک باقی رہنے والا ہو(۴)نصاب کامل ہو اور(۵)مکمل طور پر اس کی ملکیت میں ہو۔
پہلی شرط: اس کا جانور ہونا ہے اور اونٹ، گائے اور بکری کے علاوہ جانوروں میں زکوٰۃ فرض نہیں، بکری اورہرن ،گھوڑے اور خچر کے ملاپ سے پیدا ہونے والے جانوروں میں بھی زکوٰۃ نہیں ۔
دوسری شرط: چرنے والا ہو، پس پالتو جانور(یعنی جو گھرمیں پالا جائے اس ) پر زکوٰۃ نہیں اور نصاب کامل ہوناچاہے۔اونٹوں کی زکوٰۃ :
جب تک پانچ اونٹ نہ ہو ان پر زکوٰۃ نہیں۔ پانچ اونٹوں میں ایک سالہ بھیڑ ہوگی یا بکری جو تیسرے سال میں داخل ہو۔ ۲؎ دس اونٹوں میں دوبکریاں،پندرہ میں تین اور بیس میں چار بکریاں ہوں گی پچیس(۲۵) اونٹوں میں بنتِ مخاض(یعنی اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو دوسرے سال میں داخل ہو چکا ہو)لازم ہوگا۔ اگر ایسا بچہ نہ ہو تو ابنِ لبون (یعنی وہ نر جو تیسرے سال میں داخل ہو چکا ہو) ہوگا اگر چہ بنت مخاض کو دوسرے سے خرید سکتا ہو۔ چھتیس(۳۶)اونٹوں میں ایک بنتِ لبون(دوسالہ مادہ جو تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہو۔) ہو گی اور جب چھیالیس(۴۶)ہوجائیں تو اس میں ایک حِقہ ہے (یعنی جواونٹ چوتھے سال میں داخل ہو) جب اکسٹھ(۶۱)ہو جائیں تو ان میں ایک جِذعہ(یعنی جو پانچویں سال میں داخل ہو) ہوگا۔جب چھہتر(۷۶) ہوں تو ان میں دو بنتِ لبون ہوں گے۔جب اکیانوے(۹۱) ہو جائیں تو ا ن میں دو حِقّے ہوں گے۔ جب ایک سو اکیس (۱۲۱)ہو جائیں تو ان میں تین بنتِ لبون ہوں گے ۔ جب ایک سو تیس(۱۳۰) ہو جائیں تو ان میں تین بنت لبون ہوں گے جب ایک سو تیس ہوجائیں تو حساب ٹھہر جائے گا تو اب ہر
۱؎:احناف کے نزدیک :زکوٰۃ واجب ہو نے کے لئے یہ شرائط ہيں:(۱)مسلمان ہونا (۲)بلوغ(۳)عقل (۴)آزادہونا(۵)مال بقدرِ نصاب اس کی ملک میں ہونا(۶) پورے طور پر اس کامالک ہویعنی اس پر قابض بھی ہو(۷) نصاب کا دین سے فارغ ہونا(۸)نصاب حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہو(۹)مال نامی ہونا اور(۱۰)سال گزرنا۔'' (بہارشریعت، زکوٰۃ کا بیان،حصہ۵ص۱۰ تا۱۹)زکوٰۃ کی شرائط ومسائل تفصیلی طور پر جاننے کے لئے بہارشریعت، حصہ۵ کا مطالعہ فرمائیں۔ ۲؎:احناف کے نزدیک :''زکوٰۃ میں جو بکری دی جائے وہ سال بھر سے کم کی نہ ہو۔ بکری دیں یا بکرا، اس کا اختیار ہے۔'' (ردالمحتار،کتاب الزکاۃ،باب نصاب الابل،ج۳، ص۲۳۸)