ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے،انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی۔
اس آیت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ نہ کرنے سے مراد زکوٰۃ ادا نہ کرنا ہے۔
زکوٰۃ اسلام کی بنیاد اور اس کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے ۔
حضرت سیِّدُنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت سراپا عظمت میں حاضر ہوا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کعبۃُ اللہ شریف کے سائے میں تشریف فرما تھے، جب مجھے دیکھا تو فرمایا :''ربّ ِکعبہ کی قسم !وہ زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔'' میں نے عرض کی: ''کون سے لوگ؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:'' وہ لوگ جو زیادہ مال والے ہیں البتہ!وہ لوگ(اس سے خارج ہیں)جو اپنے آگے ،پیچھے، دائیں، بائیں اس طرح ، اس طرح خرچ کریں اور ایسے لوگ بہت کم ہیں ۔جو شخص اونٹ، گائے یا بکریوں کا مالک ہو اور ان کی زکوٰۃ نہ دے تو قیامت کے دن وہ جانور پہلے سے زیادہ موٹے تازے آئیں گے وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گے اور پاؤں سے روندیں گے جب آخری گزر جائے گا تو پہلا دوبارہ آئے گا حتی کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔''