امام کو چاہے کہ وہ لوگوں کو تین دن روزہ رکھنے ، طاقت کے مطابق صدقہ کرنے، توبہ و استغفار کرنے اور ظلم و زیادتی سے باز رہنے کا حکم دے پھر چوتھے دن تمام مردوں، بوڑھی عورتوں اور بچوں کولے جائے،لوگوں کے کپڑے پاک صاف لیکن پھٹے پرانے ہوں جس سے ان کی عاجزی اورمسکینی ظاہر ہوالبتہ یہ بات عید میں نہیں اور انہیں نماز عید کی طرح دو رکعتیں پڑھائے اور دوخطبے دے، ان کے درمیان تھوڑا سابیٹھے ۔دونوں خطبوں میں زیادہ تر استغفار ہونا چاہئے۔ دوسرے خطبہ میں امام کو چاہئے کہ وہ لوگوں کی طرف پیٹھ اور قبلہ کی طرف منہ کرے ۔''
اور اس حالت میں چادر کو الٹائے اس طرح الٹانا نیکیوں سے خالی ہونے کے طور پر ہے۔''نبئ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بھی اسی طرح کیا، چادر کے اوپر والے حصے کو نیچے اور دائیں والے کو بائیں کر دے۔ لوگ بھی اسی طرح کریں اور اس
۱؎:صدرالشریعہ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نماز استسقاکا طریقہ بہارشریعت میں اس طرح نقل فرماتے ہیں :''استسقاء دُعا و استغفار کا نام ہے۔ استسقا کی نماز جماعت سے جائز ہے مگر جماعت اس کے لئے سنت نہیں۔چاہیں جماعت سے پڑھیں یا تنہا تنہا دونوں(طرح) اختیار ہے۔ استسقاء کے لئے پرانے یا پیوند لگے کپڑے پہن کر تذلُّل و خشوع و خضوع و تواضع کے ساتھ سَر برہَنہ پیدل جائیں اور پا(یعنی پاؤں)برہنہ ہوں تو بہتراور جانے سے پیشتر خیرات کریں۔ کفّار کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں کہ جاتے ہیں رحمت کے لئے اور کافر پر لعنت اترتی ہے تین دن پیشتر سے روزے رکھیں اور توبہ و استغفار کریں۔ پھر میدان میں جائیں اور وہاں توبہ کریں اور زبانی توبہ کافی نہیں بلکہ دل سے کریں اور جن کے حقوق اس کے ذمہ ہیں سب ادا کرے یا معاف کرائے۔ کمزوروں، بُوڑھوں،بُڑھیوں،بچوں کے توسّل سے دُعا کرے اور سب آمین کہیں کہ
صحیح بخاری شریف میں ہے: حضور اقدس صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''تمہیں روزی اور مدد کمزوروں کے ذریعہ سے ملتی ہے۔''اور ایک روایت میں ہے،'' اگر جوان خشوع کرنے والے اور چوپائے چرنے والے اور بوڑھے رکوع۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر