' نہ پڑھے نیز پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ قاور دوسری میں سورۂ قمرپڑھے۔ دوسری رکعت میں زائد تکبیر یں پانچ ہیں۔ نماز کے بعد دو خطبے دے اور ان کے درمیان بیٹھے اورجس کی نماز عید رہ جائے وہ قضاکرے۔جب نماز سے فارغ ہو تو قربانی میں مشغول ہو جائے۔''
کیونکہ نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک مینڈھے کی قربانی کی اور یہ پڑھا
''بِسْمِ اللہِ ،وَاللہُ اَکْبَرُ،ہٰذَا عَنِّی وَ عَمَّن لَّمْ یُضِحْ مِنْ اُمَّتِیْ
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام سے،اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بڑا ہے یہ قربانی میری طرف سے اور میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے جو قربانی نہیں کر سکتے۔''
(سنن ابی داؤد ،کتاب الضحایا ،باب فی الشاہ یضحی بھا عن جماعۃ ،الحدیث۲۸۱۰،ص۱۴۳۳)
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ خوشبودارہےـ:''جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھے اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتو اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ لے۔''
(جامع الترمذی ،ابواب الاضاحی ،باب ترک أخذ الشعر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۱۵۲۳،ص۱۸۰۷)
سورج وچاند گرہن کی نماز:۳؎
اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ہدایت نشان ہے:''بے شک
۱؎:احناف کے نزدیک :''نماز ِعید سے قبل نفل نماز مطلقاً مکروہ ہے جیساکہ علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''نمازعید سے قبل نفل نماز مطلقًا مکروہ ہے ،عیدگاہ میں ہو یا گھر میں، اس پر عید کی نماز واجب ہو یا نہ ہو۔ یہاں تک کہ عورت اگر چاشت کی نماز گھر میں پڑھنا چاہے تو (عید کی )نماز ہو جانے کے بعد پڑھے اور نمازِ عید کے بعد عید گاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے،گھر میں پڑھ سکتا ہے بلکہ مستحب ہے کہ چار رکعتیں پڑھے۔ یہ احکام خواص کے ہیں ،عوام اگر نفل پڑھیں اگرچہ نماز عید سے پہلے، اگرچہ عیدگاہ میں انہیں منع نہ کیا جائے۔'' (الدرالمختاروردالمحتار،کتاب الصلاۃ،باب العیدین،ج۳،ص۵۷ تا۶۰)
۲؎:احناف کے نزدیک: ''عیدین میں چھ زائد تکبیریں ہیں تین پہلی رکعت میں اور تین دوسری رکعت میں۔اگر امام اس سے زائد تکبیریں کہے تو مقتدی تیرہ تکبیروں تک امام کی اقتداء کر سکتے ہیں۔ اور احناف کے نزدیک نماز عید کی قضا بھی نہیں۔'' (ملخص ازبہارشریعت،حصہ۴،ص۱۳۱۔۱۳۲)
۳؎:احناف کے نزدیک نماز ِ کسوف پڑھنے کا طریقہ:فتاوٰی شامی میں اس کا طریقہ یوں بیان کیا گیا ہے: ''یہ نماز اور نوافل کی طرح دو رکعت پڑھیں یعنی ہر دو رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے کریں۔ نہ اس میں اذان ہے ،نہ اقامت، نہ بلند آواز سے قرا ء ت۔ اور نمازکے بعد دُعا کریں یہاں تک کہ آفتاب کھل جائے اور دو رکعت سے زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں خواہ دو دورکعت پرسلام پھیریں یاچارپر۔'' (الدرالمختاروردالمحتار،کتاب الصلاۃ،باب الکسوف،ج۳،ص۷۸)