Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
73 - 415
چھوڑے کیونکہ یہ دو رکعتیں دُنْیَا وَمَا فِیْہَا(یعنی دُنیااور جو کچھ اس میں ہے) سے بہتر ہیں ۔ان کا وقت صبح صادق کے طلوع ہونے کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور صبح صادق کی روشنی کناروں میں پھیلتی ہے نہ کہ لمبائی میں۔
عید ین کی نمازکا بیان:
    عیدین کی نماز سنت مؤکدہ ہے اور دین کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔۱؎اس میں چند امور کا لحاظ رکھا جائے۔

    اول: تین بار اس طرح تکبیر کہنا :
اَللہُ اَکْبَرُ،اَللہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا،وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا، وَسُبْحَانَ اللہِ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلاً،لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہُ،مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔
ترجمہ :اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بڑا ہے، وہ بہت بڑا ہے، اسی کے لئے بکثرت حمدہے، صبح و شام میں اسی کے لئے پاکی ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، خالص اسی کی عبادت کرتے ہوئے اگرچہ کافروں کو ناپسند ہو۔

     عید الفطر کی رات سے لے کر نمازِ عید شروع کرنے تک تکبیر کرے جبکہ عید الاضحی میں نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں ذوالحجہ کی عصرتک پڑھے ۔یہ کامل ترین اقوال میں سے ہے اور تکبیر فرض نمازوں کے بعد کہے ۔ایک قول کے مطابق نوافل کے بعد بھی کہے۔۲؎ نماز کے لئے نکلتے وقت غسل کرنا اور زینت کرنا مستحب ہے اور بچوں اور بوڑھی عورتوں کا نکلنا مستحب ہے اور ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے لوٹنا بھی مستحب ہے مکۂ مکرمہ اور بیت المقدس کے علاوہ (عید کی نماز کے لئے)صحرا(یعنی میدان ) میں جانا مستحب ہے لیکن اگر بارش ہو(تو مسجد میں نماز پڑھنے میں حرج نہیں)

    نماز کا وقت طلوع آفتاب سے زوال تک ہے اور جانوروں کی قربانی کا وقت سورج نکلنے کے بعد دورکعتوں اور دو خطبوں جتنی دیر کے بعداس وقت سے لے کر تیرہ تاریخ کے آخر۳؎(یعنی غروب آفتاب سے پہلے) تک ہے قربانی کی وجہ سے عید الاضحی میں جلدی کرنا مستحب ہے اور عید الفطر میں تاخیر مستحب ہے تاکہ پہلے صدقہ فطر تقسیم ہو جائے۔

    لوگ تکبیر کہتے ہوئے نمازِ عید کے لئے جائیں اور جب امام عید گاہ پہنچے تو نہ بیٹھے نہ نفل پڑھے جب کہ دیگر لوگ ایسا
۱؎:صدرالشریعہ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں:''عیدین کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ انہیں پر جن پر جمعہ واجب ہے۔''
(بہارشریعت،حصہ۴،ص۱۲۸)
۲؎:حضرت علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ''نفل و سنت و وتر کے بعد تکبیرِ(تشریق) واجب نہیں اور جمعہ کے بعد واجب ہے اور نمازِ عید کے بعد بھی کہہ لے۔''
    (الدرالمختارورد المحتار،کتاب الصلاۃ،باب العیدین،مطلب المختاران الذبیح اسماعیل، ج۳،ص۷۳)
۳؎احناف کے نزدیک :''چوتھے دن (۱۳ذوالحجۃ الحرام)قربانی کرنا ناجائز ہے ۔جیساکہ صاحب ہدایہ نے سیِّدُنا عُمر وعلی وابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا قول نقل فرمایاکہ ''ایام نحر تین (۱۰،۱۱،۱۲ذوالحجۃ الحرام)ہیں اور پہلا دن افضل ہے ۔
       (ہدایہ اخیرین ،کتاب الاضحیہ ،ص۴۳۰)
Flag Counter