Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
72 - 415
لئے آتاہے اس کیلئے مزیدکوئی فضیلت نہیں۔''
   (صحیح البخاری ،کتاب الجمعۃ ،باب فضل الجمعۃ ،الحدیث۸۸۱،ص۶۹)

(السنن الکبری للبیہقی،کتاب الجمعۃ ،باب فضل التکبیر الی الجمعۃ ،الحدیث۵۸۶۴،ج ۳،ص۳۲۰۔۳۲۱) 

(سنن ابن ماجۃ ،ابواب اقامۃ الصلوات ،باب ما جاء فی التھجیر الی الجمعۃ ،الحدیث۱۰۹۲،ص۲۵۴۱،بدون''لیس لہ من الفضل شئ)
ساعات کی تفصیل:
    پہلی ساعت سے مراد طلوعِ آفتاب تک کا وقت ہے دوسری ساعت اس کے بلند ہونے تک ہے اور تیسری ساعت وہ وقت ہے جب سورج کی روشنی پھیل جائے چوتھی اور پانچویں ساعت چاشت سے زوال تک ہے۔

    نمازی کو چاہے کہ لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے اور نہ ان کے سامنے سے گزرے اور ایسی جگہ بیٹھے کہ کوئی اس کے سامنے سے نہ گزرے اور پہلی صف کی کوشش کرے۔ جب نماز سے فارغ ہو جائے تو بکثرت اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرے اور اس (خاص) گھڑی کا اچھی طرح خیال ر کھے جو روز جمعہ میں ہے۔

    اور نبئ اَکرم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پرکثرت سے درود بھیجے، آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''میرے اوپر چمکتی رات اور روشن دن(یعنی شبِ جمعہ اورجمعہ کے دن) میں بکثرت درود بھیجو۔''
   (المعجم الاوسط ،الحدیث۲۴۱،ج۱،ص۸۴)
    جمعہ کے دن صدقہ کرنا خاص طور پر مستحب ہے اورجب مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے چار رکعت پڑھنامستحب ہے۔ اور ان میں دو سو مرتبہ''قُلْ ھُوَاللہُ اَحَدٌ'' پڑھے اور اگر ہوسکے توجمعہ کادن آخرت کی تیاری کے لئے مقرر کرلے اس طرح کہ اس دن دنیوی مصروفیات میں مشغول نہ ہوپس جس نے ایسا کیا تواس کا یہ عمل دونوں جمعوں کے درمیان( گناہوں کا) کفارہ ہو جائے گا۔

    مروی ہے کہ'' جو شخص جمعہ کی رات سفرکرے اس کے ساتھ والے فرشتے اسے بد دعا دیتے ہیں۔''(امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے نزدیک بروزِجمعہ) طلوعِ فجرکے بعد سفر کرنا حرام ہے۔ البتہ! رفقائے سفرکے چلے جانے کا اندیشہ ہو تو جائز ہے۔۱؎
نوافل کا بیان :
    نوافل کونہیں چھوڑناچاہے کیونکہ یہ فرائض کی کمی پوری کرنے والے ہیں ۔فرائض بمنزلہ اصل سرمایہ کے ہیں اور نوافل نفع کی طرح ہیں اور سننِ مؤکدہ کو بھی نہ چھوڑے جیسا کہ عرف ہے۔ نہ ہی چاشت کی نماز چھوڑے یہ دو یا چار یا اس سے زیادہ ہیں۔ اسی طرح نماز ِ تہجد اور مغرب و عشاء کے درمیانی وقت کو عبادت کے ساتھ زندہ کرنا نیز صبح کی دو رکعتوں(یعنی سنتوں)کو بھی نہ
۱؎:احناف کے نزدیک: جمعہ کے دن بھی طلوعِ فجر کے بعد سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ جیسا کہ مفتی احمد یا ر خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی تحریر فرماتے ہيں: ''جمعہ کے دن اذانِ جمعہ سے پہلے سفر جائز ہے ۔''
   (مراٰۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،باب آداب السفر،الفصل الثالث،ج۵،ص ۴۹۹)
Flag Counter