| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
جان لو!ایسے چالیس آدمیوں کے بغیر جمعہ منعقد نہیں ہوتا۔۱؎ جو مکلف، آزاد،اور مقیم ہوں اور گرمی سردی میں ایک سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوتے ہوں۔
ایک کے بعد دوسرا جمعہ نہیں ہونا چاہے مگر یہ کہ شہر بڑا ہو اور یہ گمان ہو کہ ایک جامع مسجد میں لوگ اکٹھے نہیں ہو سکتے تو اس صورت میں دو، تین یا بقدر حاجت زیادہ جگہوں پر پڑھ سکتے ہیں۔جمعہ میں دو خطبے فرض ہیں اور ان دونوں میں قیام بھی فرض ہے اور دونوں میں بیٹھنا فرض ہے پہلے خطبہ کے چار فرض ہیں:(۱)تحمید اور اس کی کم از کم مقدارالحمد للہ کہنا ہے(۲)نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پردرود پڑھنا(۳)اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے کی وصیت کرنا (۴)قرآن مجید سے ایک آیت کا تلاوت کرنا اسی طرح دوسرے خطبے کے بھی چار فرائض ہیں البتہ اس میں قراء ت کی جگہ دعا ہے اور چالیس آدمیوں پر دونوں خطبوں کا سننا واجب ہے۔۲؎جمعہ کی سنتیں:
جب سورج ڈھل جائے مؤذن اذان دے اور اما م منبر پر بیٹھ جائے تو تحیۃ المسجد کے علاوہ نماز نہیں پڑھ سکتے اور خطبہ شروع ہونے تک گفتگو منع نہیں۔اورجمعہ کے دن سفید کپڑے پہننا، خوشبو لگانا،غسل کرنا اور اوّل وقت میں آنا مستحب ہے۔
نبئ رحمت،شفیعِ امت، قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' جس نے جمعہ کے دن غسل کیا پھر نماز(جمعہ) کے لئے پہلی گھڑی گیا گویا اس نے اونٹ کی قربانی کی، جو دوسری گھڑی میں گیا گویا اس نے گائے کی قربانی دی، جوتیسری ساعت میں گیا گویا اس نے سینگوں والا مینڈھا قربان کیا جو چوتھی ساعت میں گیا گویا اس نے مرغی صدقہ کی جو پانچویں ساعت میں گیا گویا اس نے انڈاصدقہ کیا اور جب امام (منبرکی طرف) نکلتا ہے تو اعمال نامے لپیٹ دئیے جاتے ہیں اورقلم روک دئیے جاتے ہیں اور فرشتے منبر کے پاس جمع ہو کر خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں پس اس کے بعد جو شخص آتا ہے وہ صرف نماز کا حق ادا کرنے۱؎:احناف کے نزدیک نمازِ جمعہ کے صحیح ہونے کے لئے خطیب کے سوا تین آدمی کافی ہیں۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے:''اگر تین غلام یا مسافر یا بیمار یا گونگے یا اَن پڑھ مقتدی ہوں تو جمعہ ہو جائے گا اور صرف عورتیں یا بچے ہوں تو نہیں۔''
(الفتاوی الھندیہ، کتاب الصلاۃ،الباب السادس عشر فی صلاۃ الجمعۃ،ج۱،ص۱۴۸والدرالمختار،کتاب الصلاۃ،باب الجمعۃ،ج۳،ص ۲۷)
۲؎: احناف کے نزدیک خطبۂ جمعہ میں مذکورہ چیزیں سنت ہیں۔جبکہ اس کی شرائط یہ ہيں: ''(۱) وقت میں ہو (۲) نماز سے پہلے اور (۳) ایسی جماعت کے سامنے ہو جو جمعہ کے لئے شرط ہے یعنی کم سے کم خطیب کے سوا تین مرد اور (۴) اتنی آواز سے ہو کہ پاس والے سُن سکیں اگر کوئی اور امر مانع نہ ہو۔''
(بھارشریعت،حصہ۴،ص۱۱۵،۱۱۶)