ایک دوسری روایت میں ہے:'' ایسے شخص نے اسلام کو پسِ پشت ڈال دیا۔''
(شعب الایمان ،باب فی الصلوات ،فضل الجمعۃ ،الحدیث۳۰۰۶،ج۳،ص۱۰۳)
حضرت سیِّدُناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور ان کے ہاتھ میں ایک چمکتاہوا شیشہ تھا انہوں نے عرض کی : یہ جمعہ ہے جسے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے رب عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر فرض کیا ہے تاکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بعد آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی امت کے لئے یہ عہد ہو جائے۔''میں نے پوچھا:'' اس میں ہمارے لئے کیا ہے؟ ''انہوں نے جواب دیا:'' اس میں ایک بہترین گھڑی ہے جو شخص اس میں اس بھلائی کی دعا کرے جو اس کی قسمت میں ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے عطا فرمائے گا اگر اس کی قسمت میں نہیں تو اس سے بڑی چیز اس کیلئے جمع کی جائے گی ہمارے نزدیک یہ تمام دنوں کا سردار ہے اور آخرت میں ہم اسے یومِ مزید کے نام سے پکاریں گے۔''میں نے پوچھا:''ایساکیوں؟''انہوں نے عرض کی : اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جنت میں ایک وادی بنائی ہے جو سفید کستوری سے زیادہ خوشبودار ہے جب جمعہ کا دن ہوگا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ عِلِّیِیْن کے لئے (اپنی شان کے مطابق)کرسی پر نزول فرمائے گااور ان لوگوں پر اپنی تجلی ظاہرفرمائے گا حتی کہ وہ اس کی ذاتِ اقدس کا دیدار کریں گے۔''
(المعجم الاوسط ،الحدیث۶۷۱۷،ج۵،ص۹۹۔۱۰۰،مفہوماً)
۱؎:احناف کے نزدیک: نمازِفجرمیں قنوت نہیں پڑھی جائے گی۔ جیساکہ علامہ شمس الدین محمد بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' نمازِفجرمیں قنوت نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ یہ منسوخ ہے۔''
(تنویر الابصار،کتاب الصلاۃ،باب الوتروالنوفل ج۲، ص۵۳۸)
اورمقتدی امام کے پیچھے قراء ت نہیں کریگا۔جیسا کہ علامہ حسن عمار بن عمر شرنبلالی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے ہیں:''اورمقتدی کو کسی نماز میں قراء ت جائز نہیں، نہ فاتحہ، نہ آیت، نہ آہستہ کی نماز میں، نہ جہر کی نماز میں۔ امام کی قراء ت مقتدی کے لئے بھی کافی ہے۔
(مراقی الفلاح شرح نورالایضاح،کتاب الصلاۃ،باب شروط الصلاۃ وارکانہا ص۵۱)