Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
69 - 415
    اور نماز کے اوقات کا خیال رکھنا چاہے اوراسے اوّل وقت میں پڑھنا چاہئے۔۱؎کیونکہ اوّل وقت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا اور آخری وقت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے بخشش ہے پس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا اس کی طرف سے معافی سے بہتر ہے۔

    امام کو تین سکتے کرنے چاہئيں کیونکہ نبئ اَکرم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے اسی طرح منقول ہے۔''
 (سنن ابی داؤد ،کتاب الصلاۃ ،باب السکتۃ عند الافتتاح ،الحدیث۷۷۷،ص۱۲۸۰،مفہوماً)
    پہلا اس وقت جب وہ ثناء پڑھے اور یہ سب سے طویل ہے۔ دوسرا سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد اور سورت شروع کرنے سے پہلے، یہ پہلے کا نصف ہے اور تیسرا سورت پڑھنے کے بعد اور رکوع کرنے سے پہلے اور اس سکتے کی مقدار سب سے کم ہے۔۲؎ 

مقتدی کو امام سے سبقت نہیں کرنی چاہے بلکہ اس وقت تک رکوع میں نہ جائے جب تک امام پورے طور پر رکوع میں نہ چلا جائے اور ایسی اقتداء تمام ارکان میں بجا لائے۔

    کہا گیا ہے کہ نماز سے فارغ ہونے والے لوگ تین قسم کے ہیں (۱)ایک گروہ وہ ہے جو پچیس نمازوں کا ثواب پانے والا ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو امام کے رکوع کے بعد تکبیر کہتے اور رکوع کرتے ہیں (۲)دوسرا گروہ وہ ہے جو ایک نماز کا ثواب حاصل کرنے والا ہوتا ہے۔ یہ وہ ہیں جو امام کے ساتھ برابری کرتے ہیں (۳)تیسرا گروہ وہ ہے جو نماز کے بغیر ہوتا ہے۔ یہ وہ ہیں جو امام سے سبقت کرتے ہیں۔

    اس میں اختلاف ہے کہ کیا امام کو رکوع میں لوگوں کے شامل ہونے کا انتظار کرنا چاہئے تاکہ انہیں جماعت کی فضیلت حاصل ہو؟ شاید بہتر یہ ہے کہ اخلاص ہوتے ہوئے ایسا کرنے میں حرج نہیں جبکہ (نمازیوں کی تعداد میں) کوئی فرق نہ پڑے۔

    اور نمازِ فجرمیں امام دعائے قنوت(اَللّٰھُمَّ اِھْدِنَا۔۔۔۔۔۔الخ) پڑھےَاور مقتدی آمین کہنا شروع کریں اورجب امام قنوت کے ان الفاظ پر پہنچے:
''اِنَّکَ تَقْضِی وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ
ترجمہ :بےشک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔''
(السنن الکبری للبیھقی ،کتاب الصلاۃ ،باب دعاء القنوت ،الحدیث۳۱۴۱،ج۲،ص۲۹۷۔۲۹۸،بدون فلک الحمد۔۔۔۔۔۔الخ)
تو آمین کہنا ختم کریں اور بقیہ قنوت میں امام سری(یعنی آہستہ آواز میں) قراءَ ت کریگااور مقتدی بھی اس کی موافقت میں سری
۱ ؎:احناف کے نزدیک:''بعض نمازوں میں تاخیر کرنا اور بعض میں تعجیل کرنا(یعنی جلدی پڑھنا) افضل ہے اورموسمِ گرما وسرما کے اعتبار سے بھی حکم مختلف ہے،اس کی تفصیل جاننے کے لئے بہار شریعت، حصہ سوم، ص ۱۹تا ۲۱ کا مطالعہ کریں۔''
    (بہارِشریعت، نماز کے وقتوں کا بیان،حصہ ۳، ص۱۹تا۲۱)
۲ ؎:احناف کے نزدیک:''اگرتین بارسبحان اللہ کہنے کی مقدار ٹھہرا رہا تو سجدہ سہو واجب ہے ۔''
 (ماخوذ ازبہارِشریعت، سجدۂ سہوکا بیان،حصہ ۳، ص۶۴)
Flag Counter