یعنی میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہے۔''میں جھوٹے نہ ہوگے اور اس میں جھوٹا ہونا بھی نہیں چاہے ورنہ یہ تمہاری ہلاکت کا سبب ہو سکتا ہے اور تمہیں اپنے رکوع و سجو د میں اللہ ربُّ العزت کی کبریائی اور عظمت کو پیشِ نظررکھناچاہئے اور اپنے چھوٹوں کو بھی اس کی تعلیم دو کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی رحمت سے تمہیں اس قابل بنایا کہ تم اس کی بارگاہ میں گڑ گڑا سکو تو اس کی بارگاہ میں با ادب رہنے اور دل کو حاضر رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔
نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے:''بےشک اللہ عَزَّوَجَلَّ(کی رحمت) نمازی کی طرف متوجہ ہوتی ہے جب تک وہ اپنی توجہ نہ ہٹائے۔ پس اپنے ظاہر و باطن کو ادھر ادھر متوجہ ہونے سے بچاؤ ۔''
(السنن الکبری للنسائی ،کتاب السھو ،باب النھی عن الالتفات فی الاصلاۃ ،الحدیث۵۲۷،ج۱،ص۱۹۱)
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے: ''بے شک آدمی نماز پڑھتا ہے لیکن اس کے لئے اس کا نصف،تہائی،چوتھائی،پانچواں، چھٹا حتی کہ دسواں حصہ بھی (ثواب)نہیں لکھا جاتا بلکہ بندے کیلئے اس کی نماز میں سے وہی کچھ لکھا جاتا ہے جسے وہ سمجھ کر ادا کرتا ہے۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عمار بن یاسر ،الحدیث۱۸۹۱۶،ج۶،ص۴۸۳۔حلیۃ الاولیاء ،سفیان الثوری ،الحدیث۹۶۳۰، ج۷، ص۶۳)
بعض نے کہا ہے کہ'' بندہ سجدہ کرتا ہے، اس کا خیال ہوتا ہے کہ اس نے اس کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کر لیا حالانکہ اس نے سجدے میں جو گناہ کئے ہیں اگر انہیں اہل مدینہ پر تقسیم کیا جائے تو وہ سب ہلاک ہو جائیں۔'' پوچھا گیا:'' وہ کیسے؟'' فرمایا:'' وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ کر رہا ہوتا ہے لیکن اس کا دل خواہشات کی طرف جھکا ہوتا ہے،وہ باطل کا مشاہد ہ کر رہا ہوتا ہے جو اس وقت اس پر غالب ہوتا ہے۔''
پیشوائی اورامامت کابیان :
سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ہدایت نشان ہے :'' امام ضامن ہوتے ہیں۔''
(مصنف عبد الرزاق ،کتاب الصلاۃ ،باب المؤذن أمین والامام ضامن ،الحدیث۱۸۴۳،ج۱،ص۳۵۶)
لہٰذاایسے شخص کو امام نہیں بننا چاہے جسے لوگ نا پسند کرتے ہوں اور بندہ جب تک اذان دینے پر قادر نہ ہو اس وقت تک امامت نہ کرے،یہی اس کے لئے بہتر ہے اور صحیح یہ ہے کہ امامت اس کے لئے افضل ہے جو اس کے تقاضوں کو پورا کرسکتا ہو، اسی وجہ سے پیارے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہمیشہ امامت فرمائی۔