(السنن الکبری للنسائی،کتاب الصیام،باب ماینھی عنہ الصائم۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۳۲۴۹،ج۲،ص۲۳۹،مفھوماً)
جان لو ! نماز ذکر وقراءَ ت، اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مناجات وکلام کرنے کا نام ہے اور یہ حضورِ قلب(یعنی دل کی حاضری) کے بغیر حاصل نہیں ہوتا اور یہ سب کچھ تعظیم، ہیبت، امید، حیاء اورسمجھ سے حاصل ہوتا ہے اور بالجملہ جتنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات و صفات کا علم بڑھتا ہے اتنا ہی خشیت (یعنی خوفِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ)میں اضافہ ہوتا ہے اور حضور قلب نصیب ہوتا ہے پس جب تم اذان کو سنو تو دل میں اس پکار کی دہشت کو حاضر کرو جو بروزِ قیامت ہوگی اور اپنے ظاہر و باطن کو جواب دینے اور نماز کی طرف جلدی کرنے پر تیار کرو کیونکہ جو لوگ اس پکار کی طرف جلدی کرتے ہیں وہ بروزِ قیامت لطف و کرم کے ساتھ پکارے جائیں گے اگر تم اپنے دل کو پاؤ کہ وہ خوشی و خوشخبری سے بھر پور ہے اور اس کی طرف جلدی کرنے کی رغبت پیدا ہو رہی ہے تو جان لو کہ قیامت کے دن کی نداء میں اسی طرح کی (خوشخبری اور کامیابی) حاصل ہوگی۔ اسی لئے نبی رحمت،شفیع امت، قاسم نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! ہمیں راحت پہنچاؤ۔''
(سنن ابی داؤد،کتا ب الادب ،باب فی صلاۃ العتمۃ ،الحدیث ۴۹۸۶،ص۱۵۸۸)
یہ اس لئے فرمایاکہ نماز آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
اپنے باطن کو غیر اللہ سے پاک کرنے کا نام طہارت ہے اور اسی کے ذریعے نماز مکمل ہوتی ہے اگر تم نے کپڑے سے اپنے ستر کو ڈھانپا ہے تو تمہارے باطنی ستر کو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کونسی چیز چھپائے گی؟ پس اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حضور با ادب ہو جاؤ۔
جان لو ! وہ تم سے اور تمہارے باطن سے آگاہ ہے اس لئے اپنے ظاہر و باطن کے ساتھ عاجزی اختیار کرو اور دیکھوکہ اگر تم کسی بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو تو تمہاری کیا حالت ہوگی؟ جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اور دنیا وی بادشاہوں کے درمیان کیا نسبت؟کیونکہ وہ سارے کے سارے اسی کے بندے ہیں۔ جب تم ایسا کرو گے تو تم اپنے قول:''وَجَّھْتُ وَجْھِیَ یعنی میں نے اپنے