Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
66 - 415
    اور اسی طرح دوسرا سجدہ کرے پھر سیدھا ہو کر تھوڑی دیر استراحت کے لئے بیٹھے۔۱؎ ؎ پھر زمین پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو جائے۔۲؎ اور کسی پاؤں کو آگے نہ بڑھائے اور قیام میں پہنچ کر تکبیر کو ختم کرے۔

    تشہد:پھر دوسری رکعت کے بعد تشہد پڑھے۔ پہلے تشہد میں بائیں پاؤں پر بیٹھے اور نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پردرود شریف پڑھے۔۳؎ اور دائیں ہاتھ کی انگلیاں سوائے انگشت شہادت کے بندہوں پھر جب اِلاَّ اللہ کہے تواس وقت انگشتِ شہادت سے اشارہ کرے (یعنی لَااِلٰہَ پر انگلی کو کھڑا کرے اور اِلاَّاللہُ پر چھوڑ دے) اور آخری تشہد میں وہ دعا پڑھے جو روایات سے ثابت ہیں اور بائیں سرین پربیٹھے جب فارغ ہو تو
''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ''
 کہے اور یہ کہتے وقت دائیں طرف اس طرح چہرہ پھیرے کہ رخسار نظر آئیں اسی طرح بائیں طرف کرے اور سلام کے ساتھ نماز سے نکلنے کا ارادہ کرے اور سلام کرتے وقت اپنے دائیں بائیں کے فرشتوں اور مسلمانوں کی نیت کرے اور سلام کو کھینچ کر نہ کہے۔
۱؎:احناف کے نزدیک دوسجدوں کے بعد استراحت نہیں۔جیساکہ علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں:'' دو سجدوں کے بعداستراحت نہ کرے(یعنی نہ بیٹھے) اور نہ ہی زمین پر ہاتھ رکھ کر اٹھے بلکہ سیدھا کھڑا ہوجائے ۔''
  (الھدایۃ ،کتاب الصلاۃ،ج۱،ص۵۲)
۲؎: علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :''جب دونوں سجدے کرلیں تو دوسری رکعت کے لئے پنجوں کے بل گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہونا سنت ہے۔ ہاں کمزوری یاپاؤں میں تکلیف وغیرہ مجبوری کی وجہ سے زمین پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہونے میں حرج نہیں ۔''
(ردالمحتار،کتاب الصلاۃج۲،ص۲۶۲)
۳؎:احناف کے نزدیک پہلے :''نوافل اورسنت غیرِمؤکدہ کے علاوہ قعدہ اُولیٰ میں درودشریف نہیں۔''
(ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،ج۲،ص۲۸۲)
۴؎:احناف کے نزدیک: ''نماز میں یہ سات چیزیں فرض ہیں: (۱)تکبیر تحریمہ (۲)قیام (۳)قراء َت(۴)رکوع (۵)سجدہ (۶)قعدہ اخیرہ(۷)خروج بصنعہ۔''
 (درمختار،کتاب الصلوٰۃ باب صفۃ الصلوٰۃ ،ج۲،ص۱۵۸۔۱۷۰)
اور نماز میں: ''تعدیلِ ارکان (یعنی رکوع وسجود ، قومہ اور جلسہ میں کم از کم ایک بارسُبحَانَ اللہ کہنے کی مقدار ٹھہرنا)،سورۂ فاتحہ پڑھنا ،دونوں قعدوں میں پورا تشہد پڑھنااورلفظ ''السلام'' دو بار کہنا واجب ہے۔''
(ماخوذ ا زفتاوٰی عالمگیری، ج۱، ص۷۱ وبہار شریعت،حصہ۳،ص۸۵۔۸۶)
اور''بعد تشہددوسرے قعدہ میں درود شریف پڑھنا سنت ہے ، درودِ ابراہیمی پڑھنا افضل ہے۔''
(ماخوذ از بہارِشریعت، حصہ ۳، ص۹۹)
نماز کے فرائض: ۴؎
     نماز میں بارہ چیزیں فرض ہیں:(۱)نیت(۲)تکبیر تحریمہ(۳)قیام(۴)فاتحہ (۵) رکوع میں اتنا جھکنا کہ ہاتھ بڑھائے توگھٹنوں تک اطمینان سے پہنچ جائیں(۶)رکوع سے معتدل انداز سے کھڑا ہونا(۷)اطمینان سے سجدہ کرنا(۸) سجدے سے اٹھنے کے بعدمعتدل انداز میں بیٹھنا (۹)قعدہ اخیرہ میں بیٹھنا(۱۰)قعدہ اخیرہ میں تشہد پڑھنا (۱۱)نبئ اَکرم صلَّی اللہ

تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود شریف پڑھنا(۱۲)پہلا سلام پھیرنا۔
Flag Counter