| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
سورۂ ناس تک کوقصارمفصَّل کہاجاتاہے) اور باقی نمازوں میں سورۂ طارق و سورۂ بروج جیسی سورتیں پڑھے اور سفر میں سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص پڑھے اور اسی طرح فجر کی سنتوں ، طواف کی نماز تحیۃ الوضوا ور تحیۃ المسجد میں بھی یہی سورتیں پڑھے۔
رکوع:پھررکوع کرے اور اس میں چند امور کا خیال رکھے:(۱)رکوع کے لئے تکبیر کہے (۲)رکوع کی تکبیرکے ساتھ رفع یدین کرے۔ ۱؎ اور تکبیر کو رکوع میں پہنچ کر ختم کرے۔ اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر یوں رکھے کہ انگلیاں پنڈلی کی لمبائی پرپھیلی ہوئی ہوں اور اپنے گھٹنوں کو سیدھا رکھے اور پیٹھ کو بھی سیدھا کرتے ہوئے کھینچ کر رکھے کہ گردن، پیٹھ اور سر ایک سیدھ میں آ جائیں عورتوں کے برخلاف اپنی کہنیوں کو پہلوؤں سے جدا رکھے اور تین مرتبہ تسبیح''سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم''
کہے اوراگر تنہا ہے تو زیادہ بار پڑھنا بہتر ہے پھر قیام کی طرف آئے اور
'' سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ''
کہتا ہوا اطمینان سے سیدھا کھڑا ہو جائے اور کہے:
رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مَلَأَ السَّمَاوَاتُ وَمَلَأَ الْاَرْضُ وَمَلَأَمَا شِئْتَ مِنْ شَیْءٍ بَعْدُ۔
ترجمہ:اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ! تیرے لئے تعریف ہے آسمان و زمین بھری ہوئی اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے بھرا ہوا۔
اور نمازِ فجر میں قنوت پڑھنے کے لئے طویل قیام کرے۔۲؎
سجدہ:پھر تکبیر کہتا ہوا سجدے میں جائے اور تکبیر(یعنی اللہ اکبر) کو سجدے میں پہنچ کر ختم کرے پس اپنے گھٹنے اور پیشانی(زمین پر) رکھے اور ہتھیلیوں کو زمین پر کھلا ہوا رکھے اور عورتوں کے بر عکس اپنی کہنیوں کو پہلوؤں سے جدا رکھے اور دونوں پاؤں کے درمیان کچھ فاصلہ رکھے جبکہ عورت اس طرح نہ کرے نیز پیٹ رانوں سے الگ ہو جبکہ عورت ایسانہ کرے وہ اپنے ہاتھوں کو زمین پر کندھوں کے برابر رکھے اورا نگلیوں کو کھلا ہوا نہ رکھے اور بازوؤں کو زمین پر کتے کی طرح نہ بچھائے کیونکہ اس سے منع کیا گیا ہے تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی پڑھے جب تنہا ہو تو زیادہ بار پڑھنے میں کوئی حرج نہیں پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنا سر سجدے سے اٹھائے پھر اطمینان سے بائیں پاؤں پر بیٹھ جائے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھے ہاتھوں کو رانوں پررکھے اور انگلیوں کو ملانے کا تکلف نہ کرے ( یعنی اپنی حالت پر چھوڑدے) اور کہے:''رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ وَاعْفُ عَنِّیْ
ترجمہ: اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق دے، ہدایت عطا فرما،عافیت دے اور معاف کر دے۔''
(سنن ابی داؤد ،کتاب الصلاۃ ،باب الدعاء بین السجدتین ،الحدیث۸۵۰،ص۱۲۸۶،بدون وَاعْفُ عَنِّی)
۱؎:احناف کے نزدیک: تکبیر تحریمہ کے علاوہ میں رفع یدین منسوخ ہے ۔مزید تفصیل کے لئے فتاوی رضویہ کی طرف رجوع کریں ۔ (فتاوی رضویہ، ج۶، ص۱۵۳) ۲؎:احناف کے نزدیک: نمازِفجرمیں قنوت نہیں پڑھی جائے گی۔ جیساکہ علامہ شمس الدین محمد بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' نمازِفجرمیں قنوت نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ یہ منسوخ ہے۔'' ( تنویر الابصار،کتاب الصلاۃ،باب الوتروالنوفل ج۲، ص۵۳۸)