| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
وارد تمام احادیث پر عمل ہو جائے اور انگلیوں کوکھولنے یا بندکرنے میں تکلیف نہ کرے اور نیت کے حاضر ہونے کے ساتھ تکبیر کہے جیسا کہ پہلے گزرا ہے تکبیر کے ساتھ ہی دونوں ہاتھ چھوڑ دے اور دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے اوپر ناف سے اوپر اور سینے سے نیچے رکھے اور دائیں ہاتھ کو (بائیں ہاتھ کے اوپر یوں رکھے) کہ وہ اٹھا ہوا ہو۔۱؎
اور دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کھلی رکھتے ہوئے بائیں بازو کی لمبائی پر پھیلادے اور چھوٹی انگلی نیزاس کے ساتھ والی انگلی سے بائیں ہاتھ کی کلائی کو پکڑے اور ثناء کے ساتھ ابتداء کرے اور بہتر ہے کہ اللہ اکبر کے ساتھ یہ بھی ملا لے،''کَبِیْرًا وَّالْحَمْدُلِلّٰہِ کَثِیْرًا وَّسُبْحٰنَ اللہِ بُکْرَۃً وَّاَ صِیْلاً۔
''پھر یہ پڑھے :
اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ حَنِیۡفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿ۚ79﴾
ترجمۂ کنزالایمان: میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے ایک اسی کا ہو کر اور میں مشرکوں میں نہیں۔(پ7،الانعام: 79)
پھر ان الفاظ میں ثناء پڑھے:''سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَ تَعَالٰی جَدُّکَ وَلَآاِلٰہَ غَیْرُکَ
ترجمہ: پاک ہے تو اے اللہ عَزَّوَجَلَّ اورمیں تیری حمد کرتاہوں ،تیرا نام برکت والا ہے اور تیری عظمت بلند ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔''
اس کے بعد:'' اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ ''
پڑھے یعنی'' میں اللہ عزوجل کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔''
پھرسورۂ فاتحہ کی تمام شَدّوں اور حروف کا لحاظ رکھتے ہوئے تلاوت کرے اور ''ض'' اور''ظ'' کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کرے۔۲؎
پھرآمین کہے اور اسے پوری مَد کے ساتھ پڑھے اوراسے ''ولاالضّآلین'' کے ساتھ نہ ملا ئے۔
نمازِ فجر میں طوالِ مفصل ( یعنی سورۂ حجرات سے سورۂ نبأ تک کوطوال مفصل کہاجاتاہے) مغرب میں قصارِمفصَّل (یعنی سورۂ ضحی سے۱؎:نماز میں ہاتھ باندھنے کاحنفی طریقہ:علامہ محمد ابراہیم حلبی علیہ رحمۃ اللہ الجلی تحریر فرماتے ہيں:''بعد تکبیر فوراً ہاتھ باندھ لیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے :مرد ناف کے نیچے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی کلائی کے جوڑ پر رکھے، چھنگلیا اور انگوٹھا کلائی کے اغل بغل (دائیں بائیں)رکھے اور باقی انگلیوں کو بائیں کلائی کی پشت پر بچھائے۔ عورت اور خنثیٰ بائیں ہتھیلی سینہ پر چھاتی کے نیچے رکھ کر اس کی پشت پر دہنی ہتھیلی کو رکھے۔''
(غنیۃ المتملی،صفۃ الصلاۃ،ص۳۰۰)
صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :''بعض لوگ تکبیر کے بعد ہاتھ سیدھے لٹکا لیتے ہیں پھر باندھتے ہیں یہ نہ چاہے بلکہ ناف کے نیچے لا کر باندھ لے۔''
(بہارِشریعت حصہ۳، ص۹۰)
۲؎:''ض'' کو'' دَاد'' یا''ظاد ''پڑھنا حرام ہے اور اس طرح پڑھنے والے کی نماز فاسد وباطل ہے ۔ جیساکہ اعلیٰ حضرت ،امام اہلسنت،مجدد دین وملت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ''عمداً ظاد یا دَاد دونوں حرام(یعنی دونوں طرح پڑھنا حرام ہے)، جو قصد (یعنی ارادہ)کرے کہ بجائے ''ض '' ''ظ'' یا ''د'' پڑھوں گا اس کی نماز کبھی تام(یعنی مکمل) فاتحہ تک بھی نہ پہنچے گی،''مغدوب ومغظوب ''کہتے ہی بلا شبہ فاسد وباطل ہو جائے گی۔'' (فتاوی رضویہ،ج۶، ص۳۲۲)