نمازکے ظاہری اعمال کی کیفیت:
نمازی کو چاہے کہ جب وہ وضو، ناپاکی دور کرنے، دل اورجگہ کو پاک کرنے نیز ناف سے لے کر گھٹنوں تک جسم کو ڈھانپنے سے فارغ ہو جائے تو قبلہ رخ ہو کر سیدھا کھڑا ہوجائے اورتراوح کرے۔ ۱ ؎ اور پاؤں کو ملاکر کھڑا نہ ہو کیونکہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے نماز میں صفن اور صفدسے منع فرمایا ہے۔''
صفدکے معنی ہیں قدموں کو ملانا۔ اس کے بارے ميں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
مُّقَرَّنِیۡنَ فِی الۡاَصْفَادِ ﴿ۚ49﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بیڑیوں میں ایک دو سرے سے جڑے ہوں گے ۔(پ13، ابراہیم:49)
اور صَفَنْ دونوں پاؤں میں سے ایک کا اٹھانا ہے،اس کے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ حقیقت بیان ہے:
اِذْ عُرِضَ عَلَیۡہِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ ﴿ۙ31﴾
ترجمۂ کنزالایمان:جبکہ اس پرپیش کئے گئے تیسرے پہر کوکہ روکئے توتین پاؤں پرکھڑے ہوں چوتھے سم کاکنارہ زمین پرلگائے ہوئے اورچلائیے تو ہوا ہو جا ئیں ۔(پ23،صۤ:31)
اورنمازی کو چاہے کہ وہ اپنے سر کو جھکائے، نگاہ کوجائے نماز(یعنی جائے سجدہ) پر رکھے ،نیت کو حاضر کرے اورقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھے کہ شیطان سے حفاظت کے لئے پڑھنے میں حرج نہیں ۔مثلاََ ظہر کی نماز کی نیت کرے اور دل میں کہے:'' میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ظہر کے فرض ادا کرتا ہوں۔ ''تاکہ نمازلفظ ''ادا'' کے ذریعے قضا سے ، ظہر کے ذریعے عصر سے اور فرض کے ذریعے نفل سے ممتاز ہوجائے اور تکبیر کے آخر تک اس نیت کو بر قرار رکھنے کی کوشش کرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو کاندھوں کے برابر کر دے اور انگوٹھوں کو کانوں کی لوؤں اور انگلیوں کے پوروں کوکانوں کے کناروں کے برابر لے جائے تاکہ اس سلسلے میں
۱؎ : نماز میں تراوح سنت ہے۔ چنانچہ صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہار شریعت حصہ ۳ ص ۲۰۲ پر نقل فرماتے ہيں: ''تراوح یعنی کبھی ایک پاؤں پر زور دیا کبھی دوسرے پر ، یہ سنت ہے۔''
(بحوالہ حلیہ ،کتاب الصلاۃ فصل فیما یکرہ فی الصلاۃ ومالا یکرہ، ج۱، ص۳۲۸)