جان لو! نماز اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مناجات کرنے کانام ہے پس وہ غفلت کی حالت میں کیسے ہو سکتی ہے؟
شاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ نصیحت نشان ہے:
لاَ یَنْظُرُ اللہُ تَعَالٰی اِلٰی صَلَاۃٍ لَمْ یُحْضِرِ الرَّجُلُ فِیْھَا قَلْبَہ، مَعَ بَدَنِہٖ۔
ترجمہ :اللہ عَزَّوَجَلَّ اس نماز کو قبول نہیں فرماتا جس میں بندہ اپنے جسم کے ساتھ اپنے دل کو حاضر نہ کرے۔
(تعظیم قدرالصلاۃ لمحمدبن نصر المروزی،باب ضرر السھو من الصلاۃ،الحدیث۱۵۷،ج۱،ص۱۹۸،لم نجدہ بھذا اللفظ)
حضرت سیِّدُنا ابراہیم علٰی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام جب نماز میں ہوتے تو آپ کے دل کی دھڑکن دومیل کے فاصلے سے سنی جاتی۔
نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ فضیلت نشان ہے:
مَنْ بَنٰی مَسْجِدًا لِلّٰہِ وَ لَوْکَمَفْحَصِ قَطَاۃٍ بَنٰی اللہُ لَہُ قَصْرًا فِی الْجَنَّۃِ۔
ترجمہ: جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاکے لئے تیتر کے گھونسلے جتنی مسجد بنائے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے جنت میں محل بنائے گا۔
(سنن ابی ماجۃ ،ابواب المساجد ،باب من بنی ﷲ مسجد ا ،الحدیث۷۳۸،ص۲۵۲۱، قصرًا: بدلہ: بیتًا)
حدیثِ قدسی میں ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:''بے شک میری زمین میں میرے گھر مسجد یں ہیں اور ان میں میری زیارت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو انہیں آباد کرتے ہیں۔ اس شخص کیلئے خوشخبری ہے جو اپنے گھر سے پاک ہو کر آیا پھر میرے گھر میں میری زیارت کی تو جس کی زیارت کی جائے اس پرحق ہے کہ وہ زیارت کرنے والے کو عزت عطا کرے۔''
(شعب الایمان ،باب فی الصلوات ،فصل المشی الی المساجد ،الحدیث۲۹۴۳،ج۳،ص۸۲،بتغیرٍ قلیلٍ)
سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب وسینہ ،سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے: