(الزھد لابن المبارک ،باب العمل والذکر الخفی ،الحدیث۱۵۴،ص۵۰)
روایت میں ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کیا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی شفاعت کا مستحق بنا دے اورجنت میں مجھے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی رفاقت عطا فرمائے نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:'' سجدوں کی کثرت کے ساتھ میری مدد کرو۔''
(الزھد لابن المبارک ،الحدیث۱۲۸۷،ص۴۵۵،مختصرًا)
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:'' بندہ سجدے کی حالت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے زیادہ قریب ہوتا ہے، لہٰذا اس وقت کثرت سے دعا مانگا کرو۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الصلاۃ ،باب ما یقال۔۔۔۔۔۔الخ؟،الحدیث۱۰۸۳،ص۷۵۴،مفہوماً)
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیۡ ﴿14﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ۔ (پ16 ،طٰہٰ: 14)
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے:'' بے شک نماز سکون، عاجزی سے گڑ گڑانے ، خوف اور شرمندگی کا نام ہے اوریہ کہ تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر پکارے یا اللہ عَزَّوَجَلَّ،یااللہ عَزَّوَجَلَّ،اورجو اس طرح نہ کرے اس کی نماز ناقص ہے ۔''
(السنن الکبری للنسائی،کتاب السھو،ذکر اختلاف شعبۃ واللیث۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۶۱۵،ج۱،ص۲۱۲ بتغیرٍ)
اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ نصیحت نشان ہے:'
'اِذَا صَلَّیْتَ صَلَاۃً ،فَصَلِّ صَلَاۃَ مُوْدِعٍ
ترجمہ:جب تم نماز پڑھو تو رخصت ہونے والے کی طرح پڑھو۔''
(سنن ابن ماجۃ ،ابواب الزھد ،باب الحکمۃ ،الحدیث۴۱۷۱،ص۲۷۳۰،بتغیرٍ)