مندرجہ بالاحدیثِ مبارکہ میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے خشوع کی طرف اشارہ فرمایاہے۔
نبئ رحمت،شفیعِ اُمت ،قاسم نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:
''اَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَۃً مَنْ سَرَقَ مِنْ صَلَاتِہٖ
ترجمہ: لوگوں میں سب سے برا چور وہ ہے جو اپنی نماز سے چوری کرتا ہے۔''۱؎
(المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث ابی قتادۃ الانصاری ،حدیث۲۲۷۰۵،ج۸،ص۳۸۶)
سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ فضیلت نشان ہے :
'' صَلاَۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَلَاۃَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَ عِشْرِیْنَ دَرَجَۃً
ترجمہ : باجماعت نماز پڑھنااکیلے پڑھنے سے ستائیس گنا افضل ہے۔''
(صحیح البخاری ،کتاب الاذان ،باب فضل صلاۃ الجماعۃ ، الحدیث۶۴۵،ص۵۲)
حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا:''جو شخص مؤذِّن کی آواز سن کر اس کا جواب نہ دے اس نے بھلائی کا ارادہ نہیں کیا اور نہ ہی اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا گیا۔''شہنشاہِ خوش خِصال،رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:'' جو شخص چالیس دن باجماعت نمازپڑھے اور اس کی تکبیر اُولیٰ (یعنی پہلی تکبیر)فوت نہ ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے دو براءَ تیں لکھ دیتا ہے :(۱)منافقت سے براء َت (۲)دوزخ کی آگ سے براءَ ت۔''
(جامع الترمذی ،ابواب الصلاۃ ،باب ماجاء فی فضیلۃ التکبیرۃالاولی ، الحدیث۲۴۱،ص۱۶۶۱،بتغیرٍ)
۱ ؎:شیخِ طریقت ،امیرِ اہلسنّت،بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانامحمد الیاس عطار قادری ضیائی دامت برکاتہم العالیہ اپنی مایہ نازکتاب ''نماز کے احکام'' میں ص۱۷۹پر نقل فرماتے ہیں کہ مفسر شہیر، حکیم الا ُمت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنان اس حدیث کے تحت فرما تے ہیں : ''معلوم ہوا کہ مال کے چور سے نمازکا چور بدتر ہے کیوں کہ مال کا چور اگر سزابھی پاتا ہے تو کچھ نہ کچھ نفع بھی اٹھالیتا ہے مگر نماز کا چورسزاپوری پا ئے گا اس کے لئے نفع کی کوئی صورت نہیں۔ مال کا چور بندے کا حق مارتا ہے جبکہ نماز کا چور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حق۔یہ حالت ان کی ہے جو نماز کو ناقص پڑھتے ہیں۔ اس سے وہ لوگ درس عبرت حاصل کریں جو سِرے سے نماز پڑھتے ہی نہیں ۔''
(بحوالہ مرأۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،ج۲،ص۷۸)