Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
57 - 415
    حضرت سَیِّدُناامام نخعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''مجھے عقل مند آدمی پر تعجب ہے جس کی داڑھی لمبی ہے وہ اس سے کیوں نہیں کاٹتا تاکہ وہ دو داڑھیوں کے درمیان ہو جائے(یعنی نہ بہت چھوٹی ہو اور نہ بہت لمبی) کیونکہ ہر چیز میں میانہ روی اچھی ہے۔''

    داڑھی کو سیاہ خضاب لگانا، گندھک سے سفید کرنا،سفید بال اکھیڑنا، چھوٹی کرنا، بہت بڑی کر دینا، ریاکاری کی خاطر کنگھی کرنا اورریاکاری کے لئے بالوں کو بکھراہوا رکھنامکروہ ہے۔

    حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:'' آخری زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے وہ اپنی داڑھیاں کاٹیں گے جیسے کبوتر کی دم (یعنی گول کریں گے) اوراپنے جوتوں سے درانتیوں کی سی آواز نکالیں گے ان لوگوں کا (دین میں)کچھ حصہ نہیں۔''